
4 سال میں 3 بار حاملہ، خاتون کا سزا سے بچنے کا چونکا دینے والا منصوبہ
قید سے بچنے کی کوشش، عورت نے بار بار حمل کے ذریعے قانون کو چکما دیا
بیجنگ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)چین میں قید کی سزا سے بچنے کا ایک چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ شانزی صوبے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون، جسے چن ہانگ کے نام سے جانا جاتا ہے، نے فراڈ کے جرم میں پانچ سال قید کی سزا سنائے جانے کے باوجود جیل جانے سے بچنے کے لیے ایک انوکھا حربہ اپنایا۔ اس نے 2020 سے 2024 کے درمیان تین بار حاملہ ہوکر اپنی سزا مؤخر کرائی۔ تاہم اب اس کی یہ کوشش ناکام ہو گئی ہے اور اسے ایک حراستی مرکز بھیج دیا گیا ہے، جہاں وہ اپنی باقی سزا کاٹ رہی ہے۔
چن ہانگ کو دسمبر 2020 میں دھوکہ دہی کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔ لیکن اس نے چین کے ایک قانون کا فائدہ اٹھایا جو حاملہ خواتین اور نوزائیدہ بچوں کی دیکھ بھال کرنے والی ماؤں کو جیل کے باہر سزا کاٹنے کی اجازت دیتا ہے۔ ہر حمل کے دوران اور بچے کی پرورش کے نام پر وہ سزا سے بچتی رہی۔
مگر مئی 2025 میں معائنے کے دوران انکشاف ہوا کہ اس کا نیا بچہ اس کے پاس نہیں بلکہ سابق شوہر کی بہن کے نام پر رجسٹرڈ تھا۔ مزید تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا کہ وہ پہلے ہی طلاق یافتہ ہے اور اپنے پچھلے بچوں کو بھی چھوڑ چکی ہے۔
مقامی وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ چن ہانگ نے قانون کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کی اور اسے باقی سزا جیل میں کاٹنی چاہیے۔ بالآخر حکام نے اسے تقریباً ایک سال کے لیے حراستی مرکز منتقل کر دیا تاکہ وہ اپنی سزا مکمل کرے۔
یہ معاملہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوا۔ صارفین نے سخت ردعمل دیا اور بچوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر افسوس کا اظہار کیا۔ ایک صارف نے کہا:’’یہ بچے صرف اس لیے پیدا ہوئے کہ ان کی ماں جیل سے بچ سکے۔‘‘
کئی صارفین نے چینی قانون میں پائی جانے والی خامیوں پر تنقید کی اور فوری اصلاح کا مطالبہ کیا۔یہ پہلا کیس نہیں ہے۔ 2005 میں بھی ایک خاتون نے عمر قید سے بچنے کے لیے دس برسوں میں 14 بار حمل کا دعویٰ کیا تھا، جن میں سے ایک جعلی ثابت ہوا۔ بالآخر اسے 2015 میں جیل جانا پڑا۔



