ٹرمپ کی پالیسیوں کا اثر، 50 سال میں پہلی بار امریکہ میں تارکین وطن کی آبادی میں 10 لاکھ کی تاریخی کمی
صرف پانچ ماہ میں امریکہ میں تارکین وطن کی آبادی 10 لاکھ کم ہوگئی
واشنگٹن: (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز)امریکہ میں نصف صدی بعد پہلی بار تارکین وطن کی آبادی میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ پیو ریسرچ سینٹر کی تازہ رپورٹ کے مطابق، جنوری 2025 میں امریکہ میں 5.33 کروڑ تارکین وطن تھے جو جون 2025 تک گھٹ کر 5.19 کروڑ رہ گئے۔ یعنی صرف پانچ ماہ میں 10 لاکھ سے زائد تارکین وطن ملک چھوڑ گئے یا ڈی پورٹ کر دیے گئے۔
یہ کمی تاریخی ہے کیونکہ 1960 کی دہائی کے بعد پہلی بار امریکہ میں امیگریشن کی شرح میں کمی دیکھی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، امریکی آبادی میں تارکین وطن کا تناسب جنوری 2025 میں 15.8% تھا جو جون 2025 میں گھٹ کر 15.4% رہ گیا۔ اسی طرح لیبر فورس میں بھی کمی آئی ہے، جہاں تارکین وطن کارکنوں کا حصہ 20% سے کم ہو کر 19% رہ گیا، یعنی صرف چھ ماہ میں 7.5 لاکھ سے زائد کارکن کم ہوئے۔
بائیڈن انتظامیہ نے جون 2024 میں پناہ کی درخواستوں پر سخت پابندیاں لگائیں، جس کے بعد جنوری 2025 سے ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے پہلے 100 دنوں میں 181 انتظامی اقدامات کیے۔ ان کا مقصد نئے تارکین وطن کے داخلے کو محدود کرنا اور غیر قانونی افراد کو ملک بدر کرنا تھا۔ ان پالیسیوں کا سب سے زیادہ اثر غیر مجاز تارکین وطن پر ہوا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی معیشت طویل عرصے سے تارکین وطن پر انحصار کرتی رہی ہے۔ زراعت، تعمیرات، صحت کی دیکھ بھال اور ٹیکنالوجی جیسے اہم شعبے بڑی حد تک تارکین وطن کارکنوں پر قائم ہیں۔ اگر یہ کمی جاری رہی تو امریکی معیشت کی شرح نمو منفی طور پر متاثر ہو سکتی ہے۔
پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے کہ آیا یہ کمی عارضی ہے یا امریکہ اب مستقل طور پر کم امیگریشن کی طرف بڑھ رہا ہے۔ لیکن موجودہ سیاسی ماحول اور سرحدی سلامتی پر زور دیکھتے ہوئے امکان ہے کہ آنے والے برسوں میں امریکہ مزید سخت امیگریشن پالیسیوں پر عمل کرے گا۔
امریکہ میں تارکین وطن کی سب سے بڑی تعداد میکسیکو سے آتی ہے۔ 2023 کے وسط تک 1 کروڑ 10 لاکھ سے زائد امریکی باشندے میکسیکو میں پیدا ہوئے تھے، جو مجموعی تارکین وطن کا 22% بنتے ہیں۔ تاہم 2007 کے بعد سے میکسیکو سے امیگریشن میں کمی آئی ہے، اور امریکہ میں مقیم میکسیکن تارکین وطن کی تعداد بھی گھٹ رہی ہے۔



