بین الاقوامی خبریں

بنگلہ دیش کے پاس روہنگیا پناہ گزینوں کے لیے وسائل ختم، عالمی برادری سے مدد کی اپیل

ہمارے پاس روہنگیا پناہ گزینوں کے لیے وسائل نہیں، دنیا کو کوئی نہ کوئی حل نکالنا چاہیے: محمد یونس

ڈھاکہ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے کہا ہے کہ ان کے ملک میں مقیم تقریباً 13 لاکھ روہنگیا مہاجرین کے لیے اب مزید وسائل دستیاب نہیں ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ عالمی برادری فوری طور پر کوئی مستقل حل نکالے، ورنہ یہ انسانی بحران مزید سنگین ہو جائے گا۔

محمد یونس نے کاکس بازار میں بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "ہمارے ملکی ذرائع سے مزید وسائل اکٹھے کرنے کا کوئی امکان نہیں۔ امداد میں کمی اور بڑھتی ہوئی مشکلات نے صورتحال کو تشویشناک بنا دیا ہے۔”

یونس نے زور دیا کہ عالمی برادری کو روہنگیا بحران کا پائیدار حل تلاش کرنا ہوگا اور ان کی محفوظ وطن واپسی کے لیے عملی روڈ میپ تیار کرنا ہوگا۔

گزشتہ آٹھ برسوں سے کاکس بازار دنیا کا سب سے بڑا مہاجر کیمپ ہے، جہاں آدھی سے زیادہ آبادی بچے ہیں جو بانس کی جھونپڑیوں میں مقیم ہیں۔ اسکول بند ہو چکے ہیں، غذائی امداد کم ہو گئی ہے اور مستقبل غیر یقینی نظر آ رہا ہے۔

کانفرنس کے موقع پر روہنگیا مہاجرین نے احتجاجی ریلی نکالی، جس میں پلے کارڈز پر لکھا تھا: "مزید مہاجرین کی زندگی نہیں، نسل کشی بند کرو، وطن واپسی ہی واحد حل ہے۔”

روہنگیا رہنما سید اللہ نے کہا: "ہم نے سات سالوں میں کئی عالمی کانفرنسیں دیکھیں لیکن ہماری حالت وہی کی وہی ہے، ہم اب بھی بے اختیار کیمپوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔”

اقوام متحدہ کے مطابق، صرف 2025 میں اب تک 1.5 لاکھ سے زائد نئے روہنگیا میانمار کی راکھین ریاست میں لڑائی کے باعث بنگلہ دیش آ چکے ہیں۔ میانمار فوج اپنی کارروائی کو دہشت گردوں کے خلاف آپریشن قرار دیتی ہے جبکہ اقوام متحدہ اسے نسلی تطہیر کا منصوبہ کہتی ہے۔محمد یونس نے واضح کیا کہ "جب تک عالمی سطح پر اس مسئلے کو ترجیح نہیں دی جاتی، مستقل حل ممکن نہیں ہوگا۔”

متعلقہ خبریں

Back to top button