قومی خبریں

اسمریتی ایرانی کے سی بی ایس ای ریکارڈ کی تفصیلات ظاہر کرنے سے انکار، دہلی ہائی کورٹ نے سی آئی سی کا حکم کالعدم قرار دیا

اسمریتی ایرانی کی تعلیمی تفصیلات عوامی مفاد میں نہیں

نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)جسٹس سچن دتہ نے پیر کے روز سی بی ایس ای کی اپیل کو منظور کرتے ہوئے کہا کہ ایسی معلومات کو ظاہر کرنے میں کوئی ‘عوامی مفاد’ شامل نہیں ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ سابق مرکزی وزیر اسمریتی ایرانی کی دسویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات کی تفصیلات سرکاری ذمہ داریوں یا عوامی عہدہ سنبھالنے کے لیے لازمی شرائط میں شامل نہیں ہیں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا:”یہ ضروری ہے کہ اس بات پر زور دیا جائے کہ کسی بھی عوامی شخصیت کی تعلیمی تفصیلات اگر عوامی مفاد کے بغیر ظاہر کی جائیں تو یہ ذاتی دائرے میں مداخلت کے مترادف ہوگا، جو کہ آئینی طور پر پرائیویسی کے تحفظ کے تحت آتا ہے۔”

مزید کہا گیا کہ اگر ایسی معلومات ظاہر کرنے کی اجازت دے دی گئی تو یہ سنسنی خیزی اور تجسس پر مبنی مطالبات کے لیے "فلڈ گیٹس” کھول دے گا، جس سے مختلف سرکاری اہلکاروں اور عہدیداروں کے ذاتی ریکارڈ تک بلا جواز رسائی حاصل کرنے کی کوششیں شروع ہو جائیں گی۔

عدالت نے زور دیا کہ آر ٹی آئی ایکٹ حکومت کے کاموں میں شفافیت بڑھانے کے لیے بنایا گیا تھا، نہ کہ سنسنی پھیلانے یا ذاتی زندگی میں مداخلت کے لیے۔آخر میں، عدالت نے سی آئی سی کے 2017 کے احکامات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ آر ٹی آئی ایکٹ کی دفعات کے منافی ہیں، اس لیے انہیں برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button