گوگل میاپ کی غلطی سے چتور گڑھ میں وین ندی میں بہہ گئی، 3 ہلاک، 1 لاپتہ
گوگل میاپ نے انہیں اسی پل کا راستہ دکھایا جو تقریباً تین سال سے بند تھا۔
چتور گڑھ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)راجستھان کے ضلع چتور گڑھ کے رشمی تھانہ علاقے میں ایک ہی خاندان کے نو افراد ایک وین میں سفر کر رہے تھے جب ایک المناک حادثہ پیش آیا۔ یہ حادثہ سومپی اپریڈا پل پر رات کے تقریباً ایک بجے اس وقت پیش آیا جب گوگل میاپ کی ہدایت پر خاندان کا ڈرائیور اس پل پر پہنچ گیا جو گزشتہ تین سال سے بند تھا۔
یہ خاندان چتور گڑھ کے بھوپال ساگر تھانہ علاقے کے کنکھیڑا گاؤں کا رہائشی ہے۔ وہ بھیلواڑہ ضلع میں سوائی بھوج مندر کے درشن کے بعد واپس آ رہا تھا۔ دیر رات ہونے اور راستہ بھولنے پر انہوں نے مقامی دیہاتیوں سے مدد لی، جنہوں نے انہیں پل کی طرف جانے سے منع کیا۔ تاہم، گوگل میاپ نے انہیں اسی پل کا راستہ دکھایا جو تقریباً تین سال سے بند تھا۔
یہاں، ماتری کنڈیا ڈیم کے پانچ دروازے کھولے جانے کی وجہ سے بناس ندی میں تیزی آگئی۔پل پر تیز پانی کے بہاو کے باعث گاڑی پھنس گئی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ندی میں بہہ گئی۔ ڈرائیور نے گاڑی کو باہر نکالنے کی بہت کوشش کی مگر وہ کامیاب نہ ہو سکا اور گاڑی تقریباً 300 میٹر تک بہہ گئی۔
رشمی پولیس اسٹیشن کے انچارج دیویندر دیول کے مطابق حادثے میں دو خواتین اور ایک چار سالہ بچی کی نعش نکالی گئی ہے، جبکہ ایک خاتون ابھی تک لاپتہ ہے۔ حادثے میں بچ جانے والے پانچ افراد کو ماہی گیروں کی کشتی کے ذریعے بحفاظت نکالا گیا۔
سائبر ماہرین نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ گوگل میاپ پر اندھا اعتماد محفوظ نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض اوقات نقشہ اپ ڈیٹ نہ ہونے کی وجہ سے غلط راستہ دکھا دیتا ہے۔ اسی طرح بارش، طوفان یا سیلاب کی وجہ سے سڑکیں بند ہونے کی بروقت معلومات بھی نقشے پر ظاہر نہیں ہوتیں۔ اس کے علاوہ GPS سگنل کمزور ہونے سے بھی غلط سمت دکھائی جا سکتی ہے۔
پولیس، این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر ریسکیو آپریشن شروع کیا۔ ہلاک شدگان کی نعشیں پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال بھیج دی گئی ہیں اور ریسکیو ٹیمیں لاپتہ خاتون کو تلاش کر رہی ہیں۔
یہ حادثہ نہ صرف ایک خاندان کے لیے المیہ ثابت ہوا بلکہ گوگل میاپ کی درستگی اور اس پر اندھا بھروسہ کرنے پر بھی سنگین سوالات اٹھا گیا ہے۔



