تعزیتی دورہ خطرناک بن گیا، نتیش کے وزیر اور ایم ایل اے پر مشتعل عوام کا حملہ، ایک کلومیٹر تک دوڑائے گئے
وزیر اور ایم ایل اے کو تقریباً ایک کلومیٹر تک بھاگ کر جان بچانی پڑی۔
نالندہ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)بہار کے نالندہ ضلع میں اس وقت حالات کشیدہ ہو گئے جب سڑک حادثے میں ہلاک ہونے والے 9 افراد کے اہل خانہ سے تعزیت دینے پہنچے وزیر شرون کمار اور مقامی رکن اسمبلی کرشن مراری پر مشتعل عوام نے اچانک حملہ کر دیا۔ واقعہ ہلسہ تھانہ علاقے کے ملاوا گاؤں میں پیش آیا، جہاں ناراض لوگوں نے پتھراؤ اور لاٹھی ڈنڈوں سے حملہ کیا، جس کے باعث وزیر اور ایم ایل اے کو تقریباً ایک کلومیٹر تک بھاگ کر جان بچانی پڑی۔
اس واقعہ میں وزیر کے باڈی گارڈ سمیت کئی افراد زخمی ہو گئے جبکہ بعض کے سر پھٹنے کی بھی اطلاع ہے۔ تمام زخمیوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ واقعہ کے بعد نالندہ کے علاقے میں کشیدگی پھیل گئی اور انتظامیہ نے فوری طور پر بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کر دی، جس کے بعد پورا علاقہ پولیس چھاؤنی میں تبدیل ہو گیا۔
ذرائع کے مطابق تین دن قبل ایک خوفناک سڑک حادثے میں 9 افراد کی جان چلی گئی تھی۔ اس حادثے کے متاثر کنبوں سے ملنے کے لیے وزیر اور ایم ایل اے گاؤں پہنچے تھے۔ متاثرین سے ملاقات کے بعد جیسے ہی دونوں رہنما واپس لوٹنے لگے، گاؤں والوں نے انہیں مزید رکنے اور معاوضے کے معاملے پر بات کرنے کو کہا۔ لیکن وزیر نے آگے کے پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے وہاں سے جانے کی بات کی، جس پر ماحول اچانک بگڑ گیا اور دیہی مشتعل ہو گئے۔
گاؤں والوں کا الزام ہے کہ حادثے کے دن مقامی ایم ایل اے کے کہنے پر انہوں نے سڑک جام ختم کیا تھا، لیکن حکومت کی جانب سے آج تک معاوضہ فراہم نہیں کیا گیا۔ اسی غصے میں لوگوں نے وزیر اور ایم ایل اے کو نشانہ بنایا۔
پولیس حکام نے بتایا کہ صورتحال کو قابو میں کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور دیہی عوام کو سمجھانے کے ساتھ ساتھ معاملے کی جانچ بھی شروع کر دی گئی ہے۔ مقامی انتظامیہ نے متاثرہ کنبوں کو معاوضہ اور دیگر امداد فراہم کرنے کے لیے اعلیٰ سطح پر رپورٹ بھیج دی ہے۔
یہ واقعہ بہار کی سیاست میں ایک بڑا سوال کھڑا کرتا ہے کہ عوامی ناراضگی کے وقت لیڈران کی موجودگی کس حد تک خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔



