ککڑڈوما کورٹ کا بڑا فیصلہ: دہلی فسادات مسجد آتش زنی کیس میں چھ ملزمان بری، پولیس کی تفتیش پر سوالات
کیس کا واحد عینی شاہد اپنے بیان سے منحرف ہوگیا
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)دہلی فسادات 2020 کے ایک اہم مقدمے میں ککڑڈوما کورٹ نے چھ ملزمان کو بری کر دیا۔ یہ کیس شمال مشرقی دہلی کے سداما پوری علاقے میں عزیزیہ مسجد کے قریب لوٹ مار اور آتش زنی سے متعلق تھا۔
عدالت نے واضح طور پر کہا کہ پولیس نے ناقص تفتیش کی، شواہد میں خامیاں ہیں اور ملزمان کے خلاف کوئی بھی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا۔ بری کیے گئے افراد میں ایشو گپتا، پریم پرکاش، راج کمار، منیش شرما، راہول عرف گولو اور امیت عرف انو شامل ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں پولیس کی تفتیش پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا:
"یہ افسوسناک ہے کہ واضح خامیوں کے باوجود ایس ایچ او اور افسرانِ بالا نے چارج شیٹ داخل کر دی۔ ایسی کارروائی عوام کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچاتی ہے۔”
عدالت نے حیرانی کا اظہار کیا کہ نہ تو کیس ڈائری عدالت میں پیش کی گئی اور نہ ہی پولیس اسٹیشن کے ریکارڈ میں موجود تھی۔
کیس کا واحد عینی شاہد اپنے بیان سے منحرف ہوگیا جس سے استغاثہ مزید کمزور ہوگیا۔ عدالت نے کہا کہ جب ملزمان پہلے ہی پولیس حراست میں تھے تو ان کی شناخت صرف تصویروں کے ذریعے کیوں کرائی گئی؟
عدالت نے واضح کیا کہ تصویری شناخت صرف اسی وقت قابل قبول ہے جب ملزمان نامعلوم ہوں اور گرفتار نہ کیے گئے ہوں۔ مزید برآں، TIP (ٹیسٹ آئیڈینٹی فکیشن پریڈ) نہ ہونا تفتیشی عمل پر سنگین شکوک کو جنم دیتا ہے۔
عدالت نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملزمان پر جھوٹا مقدمہ عائد کر کے فائل بند کرنے کی کوشش کی گئی۔ تفتیشی افسر نے شواہد کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جس سے ملزمان کے بنیادی حقوق پامال ہوئے۔
ککڑڈوما کورٹ نے چھ ملزمان کو بری کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے نے دہلی پولیس کی تفتیشی شفافیت اور انصاف پسندی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں، خاص طور پر ایسے کیسز میں جو فرقہ وارانہ حساسیت رکھتے ہیں۔



