گجرات فسادات پر نریندر مودی کا انٹرویو شائع نہ کرنے کیلئے دباؤ، شاہد صدیقی کا انکشاف
سابق رکنِ پارلیمنٹ و سینئر صحافی شاہد صدیقی کا سوانح عمری میں دعویٰ
نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) سینئر صحافی، ’نئی دنیا‘ اُردو میگزین کے بانی اور سابق رکن پارلیمنٹ شاہد صدیقی نے اپنی سوانح عمری کے سلسلے میں ’موجو اسٹوری‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ کانگریس کے سینئر لیڈر احمد پٹیل نے 2002 کے گجرات فسادات پر اُس وقت کے وزیراعلیٰ نریندر مودی کے ساتھ کیے گئے انٹرویو کو شائع نہ کرنے کیلئے ان پر دباؤ ڈالا تھا۔
صدیقی نے بتایا کہ انٹرویو شائع کرنے سے انکار کرنے پر احمد پٹیل نے سماج وادی پارٹی کی قیادت پر دباؤ ڈال کر انہیں پارٹی سے نکال دیا۔ اس وقت وہ پارٹی کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا کے رکن تھے۔ حیرت انگیز طور پر، جس دن انٹرویو شائع ہوا، اُسی دن انہیں پارٹی سے برطرف کیا گیا۔
شاہد صدیقی کے مطابق، گاندھی نگر میں انٹرویو ریکارڈ کرنے کے اگلے دن احمد پٹیل رات گئے اُن سے ملنے پہنچے اور انٹرویو روکنے کی درخواست کی۔ لیکن جب انہوں نے صاف انکار کیا تو احمد پٹیل نے متنبہ کیا کہ انہیں سیاسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس انٹرویو میں نریندر مودی نے کہا تھا:
’’اگر میں قصوروار ہوں تو مجھے پھانسی دے دیجیے‘‘۔
انٹرویو شائع ہوتے ہی صدیقی کو پارٹی سے نکال دیا گیا۔ بعد میں انہیں پتہ چلا کہ احمد پٹیل نے براہِ راست ملائم سنگھ یادو اور امر سنگھ کو فون کرکے ان پر دباؤ ڈلوایا تھا، کیونکہ اس انٹرویو کی وجہ سے کانگریس کو گجرات میں سیاسی نقصان کا اندیشہ تھا۔
بی جے پی اس واقعہ کو کانگریس پر اظہارِ رائے کی آزادی دبانے کا الزام لگانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ تاہم، صدیقی نے کہا کہ سیاسی دباؤ ہمیشہ سے رہا ہے — ایمرجنسی کے دور میں بھی — لیکن ایک غلطی کو دوسری غلطی سے درست نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔
ان کے مطابق، احمد پٹیل نے صرف سیاسی دباؤ ڈالا، جیل میں نہیں ڈلوایا، لیکن اس دباؤ کے نتیجے میں انہیں پارٹی سے بے دخل ہونا پڑا۔
شاہد صدیقی کا کہنا ہے کہ آج میڈیا پر اتنا دباؤ ہے جتنا ایمرجنسی کے بعد کبھی نہیں رہا، اور دنیا بھر میں کہا جا رہا ہے کہ میڈیا عوام کی آواز نہیں رہا۔
اپنی سوانح عمری ’’I, WITNESS: INDIA FROM NEHRU TO NARENDRA MODI‘‘ کے بارے میں صدیقی نے کہا کہ یہ واقعہ کتاب کا محض ایک چھوٹا حصہ ہے، اصل کتاب اُن کے تمام وزرائے اعظم کے ساتھ سفر اور تجربات پر مبنی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہر وزیراعظم نے ملک کیلئے کچھ مثبت اور کچھ منفی کام کیے ہیں۔ ساتھ ہی بتایا کہ 2008 میں جب نیوکلئیر ڈیل سامنے آئی تو انہوں نے خود سماج وادی پارٹی سے استعفیٰ دیا تھا کیونکہ وہ اسے ملک کے مفاد میں نہیں سمجھتے تھے۔
صدیقی نے کہا کہ اگرچہ وہ مختلف پارٹیوں میں رہے اور تنقید بھی برداشت کی، لیکن آج بھی اُن کے ذاتی تعلقات اکھلیش یادو، راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی سے اچھے ہیں، کیونکہ ذاتی اور نظریاتی رشتے الگ رکھنا ہی جمہوریت کی اصل روح ہے۔
بات چیت کے دوران انہوں نے بی جے پی کو بھی نشانہ بنایا اور کہا کہ اگر بہار میں واقعی مسلمانوں کے نام ووٹر لسٹ سے کاٹے جا رہے ہیں تو میڈیا کو اس پر سنجیدہ تحقیقات کرنی چاہیے۔



