سرورققومی خبریں

اسکولوں میں ٹرانس جینڈر پر مبنی جامع جنسی تعلیم کا مطالبہ،سپریم کورٹ نے حکومت سے جواب طلب کیا

طلبہ کو جامع جنسیت تعلیم دینے کے لیے سپریم کورٹ میں اہم درخواست

نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) سپریم کورٹ نے ایک اہم معاملے پر نوٹس جاری کرتے ہوئے مرکزی حکومت، این سی ای آر ٹی اور چھ ریاستی حکومتوں سے جواب طلب کیا ہے۔ یہ نوٹس اس عرضی پر جاری کیا گیا ہے جس میں اسکولی نصاب میں ٹرانس جینڈر پر مشتمل جامع جنسی تعلیم (Inclusive Sex Education) کو شامل کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

یہ عرضی دہلی کے وسنت ویلی اسکول کی 12ویں جماعت کی طالبہ کاویہ مکھرجی ساہا نے دائر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ این سی ای آر ٹی اور ایس سی ای آر ٹی کی نصابی کتابوں میں ٹرانس جینڈر کی شمولیت اور صنفی حساسیت کی تعلیم کا فقدان ہے، جس کے باعث طلباء درست اور سائنسی معلومات حاصل نہیں کر پا رہے ہیں۔

درخواست میں زور دیا گیا ہے کہ بچوں کو صحیح عمر میں جامع اور سائنسی تعلیم فراہم کی جائے تاکہ معاشرے میں پائی جانے والی تفریق، تعصب اور غلط فہمیوں کو دور کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی عرضی گزار نے عدالت سے اپیل کی ہے کہ ملک بھر کے تمام تعلیمی اداروں میں صنفی حساسیت اور ٹرانس جینڈر شمولیت پر مبنی رہنما خطوط جاری کیے جائیں۔

سپریم کورٹ نے اس معاملے کو نہایت سنگین قرار دیتے ہوئے تمام فریقین کو نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت کی آئندہ سماعت میں یہ دیکھا جائے گا کہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں اس پر کیا موقف اختیار کرتی ہیں۔ اگر سپریم کورٹ واضح ہدایات جاری کرتی ہے تو یہ ملک کے تعلیمی نظام میں ایک انقلابی تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button