بین الاقوامی خبریںسرورق

افغانستان کے مشرقی صوبوں میں زلزلہ، 600 سے زائد ہلاک، 1500 زخمی

سینکڑوں مکانات زمین بوس ہو گئے۔

جلال آباد، افغانستان :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)افغانستان میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب آنے والے شدید زلزلے اور اس کے بعد متعدد آفٹر شاکس نے خوفناک تباہی مچادی۔ وزارت داخلہ کے مطابق اب تک 610 افراد ہلاک اور 1,500 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ سینکڑوں مکانات زمین بوس ہو گئے۔

زلزلہ رات گئے تقریباً بارہ بجے آیا جس کے جھٹکے کابل سے لے کر پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد تک محسوس کیے گئے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کی شدت 6.7 اور گہرائی صرف 8 کلومیٹر تھی، جس کا مرکز صوبہ ننگرہار کے شہر جلال آباد سے 27 کلومیٹر دور تھا۔

وزارت داخلہ کے ترجمان عبدالمتین قانی نے بتایا کہ سب سے زیادہ تباہی صوبہ کونڑ میں ہوئی جہاں 610 افراد جاں بحق اور 1,300 زخمی ہوئے، جبکہ ننگرہار میں 12 افراد ہلاک اور 255 زخمی ہوئے۔

زلزلے کے بعد رات بھر متعدد آفٹر شاکس آتے رہے جن میں سے ایک 5.2 شدت کا طاقتور جھٹکا صبح ساڑھے چار بجے ریکارڈ کیا گیا۔

اقوام متحدہ نے بھی اس تباہی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے امدادی عملے نے متاثرہ علاقوں میں ہنگامی امداد اور جان بچانے والی خدمات فراہم کرنا شروع کر دی ہیں۔

یاد رہے کہ افغانستان میں اکثر زلزلے آتے رہتے ہیں، خصوصاً ہندوکش کے پہاڑی سلسلے میں جہاں یوریشیائی اور بھارتی ٹیکٹونک پلیٹیں ملتی ہیں۔ جون 2022 میں صوبہ پکتیکا میں 5.9 شدت کے زلزلے میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

افغانستان جو پہلے ہی چار دہائیوں کی جنگ اور انسانی بحران سے دوچار ہے، طالبان کی واپسی کے بعد غیر ملکی امداد میں کمی کی وجہ سے مزید مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں قدرتی آفات صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہیں.

متعلقہ خبریں

Back to top button