ریاستی وزیر کے علاقے میں حاملہ خاتون کو ایمبولینس نہ ملی، مجبور شوہر ٹھیلا بنڈی پر اسپتال لے گیا
چھترپور کی صحت خدمات کا پول کھل گیا، وزیر اعلیٰ کے دورے کے اگلے ہی دن افسوسناک واقعہ
چھترپور (مدھیہ پردیش):(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) ضلع چھترپور میں صحت خدمات کی ناقص صورتحال ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ یہ معاملہ چندلا اسمبلی حلقہ کا ہے جس کی نمائندگی ریاستی وزیر دلیپ اہروار کر رہے ہیں۔چندلا اسمبلی حلقہ کے وارڈ نمبر 4 میں حاملہ خاتون کو ایمبولینس نہ ملنے پر اس کا شوہر ٹھیلا بنڈی (ریڑھی) پر اسپتال لے گیا۔
اہل خانہ کے مطابق پرینکا نامی خاتون کو اچانک دردِ زہ شروع ہوا۔ اس کے شوہر بھورا نے 108 ایمبولینس نمبر پر کئی بار فون کیا، مگر کوئی گاڑی نہیں پہنچی۔ علاقے میں دوسرا کوئی ذریعہ نہ ہونے کے باعث بھورا نے بیوی کو ٹھیلا بنڈی پر لیٹادیا اور کھردرے راستوں سے ہوتے ہوئے اسپتال پہنچایا۔
لیکن اسپتال میں پہنچنے پر راحت ملنے کے بجائے مزید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ شوہر بھورا نے بتایا کہ جب وہ صبح ساڑھے 6 بجے اسپتال پہنچا تو ڈیوٹی پر موجود نرس نے علاج کرنے کے بجائے صبح 8 بجے کے بعد آنے کا کہا۔ ابھی کوئی عملہ نہیں ہے۔ اس کے بعد ہم پرینکا کو ٹھیلا بنڈی پر گھر واپس لے آئے۔ ہم 8 بجے دوبارہ پرینکا کو پرائمری ہیلتھ سنٹر لے گئے۔ جہاں اس نے ایک بچی کو جنم دیا۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اس سے صرف ایک دن قبل وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے چھترپور کا دورہ کیا تھا اور یہاں نئے اسپتال اور بہتر طبی سہولیات دینے کے منصوبوں کا اعلان کیا تھا۔ مقامی لوگوں نے شدید ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کروڑوں روپے کی آمدنی کے باوجود عوام کو اب تک سڑک، بجلی، پانی اور صحت جیسی بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہے۔
اس معاملے پر چیف میڈیکل اینڈ ہیلتھ آفیسر (CMHO) آر پی گپتا نے کہا کہ انہیں اس واقعہ کی کوئی جانکاری نہیں ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وہ اسپتال سے رابطہ کر کے پوری تفصیل معلوم کریں گے اور مناسب کارروائی کی جائے گی۔



