کویتا نے ایم ایل سی اور بی آر ایس سے استعفیٰ دیا، ہریش راؤ کو ’ٹربل میکر‘ قرار دیا
کویتا کا استعفیٰ، ہریش راؤ اور سنتوش راؤ پر کرپشن کے سنگین الزامات
حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) معطل بی آر ایس رہنما و ایم ایل سی K کویتا نے بدھ کے روز پارٹی کی رکنیت اور ایم ایل سی کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اس موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے سینئر رہنماؤں ہریش راؤ اور سنتوش راؤ پر کرپشن، خاندانی سازش اور عوامی مسائل سے چشم پوشی کے سنگین الزامات عائد کیے۔
کویتا نے پارٹی قیادت، بالخصوص ورکنگ پریذیڈنٹ کے ٹی راما راؤ کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں رہنما بدعنوانی میں ملوث ہیں اور خاندان میں پھوٹ ڈالنے کی سازش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا:”میرا معطلی پہلا قدم ہے، آج مجھے نشانہ بنایا گیا ہے تو کل کسی اور کو بنایا جائے گا۔ اگر خاندان تقسیم ہو گیا تو یہ لوگ جو چاہیں کریں گے۔”
بی آر ایس سربراہ کے چندر شیکھر راؤ کی بیٹی کویتا نے کہا کہ وہ بھی ’بنگارو تلنگانہ‘ چاہتی ہیں لیکن آج اس کا مطلب یہ بن گیا ہے کہ ہریش راؤ اور سنتوش راؤ کے گھروں میں ہی سونا جمع ہے۔انہوں نے گلہ کیا کہ "مجھے 103 دن سے ایک خط لیک معاملے پر جواب چاہیے تھا لیکن کے ٹی آر نے ایک لفظ نہیں کہا۔ میں ان کی بہن ہوں، کم از کم فون پر بات کرنی چاہیے تھی۔”
کویتا نے الزام لگایا کہ ہریش راؤ نے کانگریس لیڈر اور وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کے ساتھ ساز باز کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا:”ہریش راؤ دہلی جانے والی فلائٹ میں ریونت ریڈی کے ساتھ سفر کر رہے تھے اور ان کے پیر چھوئے۔ ریونت ریڈی کو جواب دینا چاہیے کہ یہ سچ ہے یا نہیں۔”ہریش راؤ کا دودھ کا کاروبار اور رنگنایک ساگر کے قریب فارم ہاؤس پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے ہریش کو ’’ٹرابل شوٹر نہیں بلکہ ٹرابل میکر‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ڈباکا اور حضورآباد میں پارٹی کی شکست کا ذمہ دار وہی ہیں۔
کویتا نے سنتوش راؤ کو ’’کھانے میں نمک‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حرکات کی سزا کے ٹی آر کو بھگتنا پڑتی ہے۔انہوں نے نریلا ریت کانڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں ایک شخص کی موت ہوئی اور 7 تا 8 دلت خاندانوں کے افراد کو پیٹا گیا، جس کے پیچھے سنتوش راؤ کا ہاتھ تھا۔ سنتوش راؤ کے قریبی پوچم پلی سرینواس ریڈی کے پاس آج 750 کروڑ روپے مالیت کا فارم ہاؤس ہے، حالانکہ وہ ایک عام خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔
کویتا نے واضح کیا کہ انہوں نے اپنا ایم ایل سی استعفیٰ اسپیکر کو بھیج دیا ہے اور بی آر ایس کی بنیادی رکنیت سے بھی دستبردار ہو رہی ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ فی الحال کسی اور سیاسی جماعت میں شامل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور وہ تلنگانہ جاگرتی تنظیم کے رہنماؤں سے مشورے کے بعد آئندہ لائحہ عمل طے کریں گی۔



