مودی حکومت کا اعلان: 2024 تک پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے آنے والے اقلیتی طبقہ کو ہندوستانی شہریت
شہریت ترمیمی قانون میں ترمیم کے بعد 31 دسمبر 2024 تک آنے والے ہندوؤں اور دیگر اقلیتوں کو ہندوستان میں شہریت دی جائے گی۔
نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مرکز کی مودی حکومت نے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے مذہبی استحصال کے شکار ہندو، سکھ، بودھ، جین، پارسی اور عیسائی طبقہ کے افراد کو ہندوستانی شہریت فراہم کی جائے گی۔ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ سہولت ان لوگوں کو ملے گی جو 31 دسمبر 2024 تک ہندوستان آئے ہیں، خواہ ان کے پاس پاسپورٹ یا دیگر سفری دستاویزات نہ ہوں۔
اس سے قبل شہریت ترمیمی قانون (CAA) میں 2014 تک کا کٹ آف مقرر تھا، لیکن اب اس کو مزید بڑھا کر 2024 کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے سے بڑی تعداد میں وہ پناہ گزین مستفید ہوں گے جو خاص طور پر پاکستان سے 2014 کے بعد ہندوستان پہنچے اور مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کا شکار تھے۔
خبر رساں ایجنسی مطابق ’’امیگریشن اینڈ فارنرس ایکٹ 2025 (2025 کا 13)‘‘ کے تحت 31 دسمبر 2024 یا اس سے پہلے ہندوستان آنے والے اقلیتی طبقہ کے پناہ گزینوں کو شہریت دینے کی منظوری دی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ افغانستان، پاکستان اور بنگلہ دیش کے ہندو، سکھ، بودھ، جین، پارسی اور عیسائی مذہبی استحصال یا اس کے خوف کی وجہ سے ہندوستان میں داخل ہوئے ہوں، تو انھیں پاسپورٹ اور ویزا رکھنے کی شرط سے چھوٹ ملے گی۔
ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نیپال اور بھوٹان کے شہریوں کو ہندوستانی سرحد کے راستے آنے جانے کے لیے پاسپورٹ یا ویزا کی ضرورت نہیں ہوگی، تاہم اگر وہ چین، ہانگ کانگ، مکاؤ یا پاکستان سے آتے ہیں تو ان کے پاس درست پاسپورٹ ہونا لازمی ہوگا۔ اسی طرح ہندوستانی شہری بھی نیپال اور بھوٹان کی سرحد سے بغیر پاسپورٹ یا ویزا کے سفر کر سکتے ہیں، لیکن دیگر ممالک سے لوٹتے وقت پاسپورٹ دکھانا لازمی ہوگا۔
مزید یہ کہ ہندوستانی فوج، بحریہ اور فضائیہ کے اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کو بھی ڈیوٹی پر اندرون و بیرون ملک سفر کرتے وقت پاسپورٹ یا ویزا کی ضرورت نہیں ہوگی، بشرطیکہ وہ سرکاری ٹرانسپورٹ کے ذریعے سفر کر رہے ہوں۔



