پیشکش قبول کرو یا نتائج بھگتو: ٹرمپ کا حماس کو آخری انتباہ
حماس کو غزہ کی پٹی سے متعلق جامع معاہدے کے بارے میں پیغامات
واشنگٹن،۸؍ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ نے حماس کو موجودہ پیشکش قبول کرنے کے لیے آخری انتباہ دیا ہے اور اس معاہدے کو مسترد کرنے کی صورت میں سنگین نتائج سے خبردار کیا ہے۔ٹرمپ نے اتوار کو مزید کہا کہ حماس کو اس اقدام کو سنجیدگی سے لینا چاہیے کیونکہ یہ جنگ بندی اور ایک نئے مذاکراتی راستے کے لیے آخری موقع ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ اسرائیلیوں نے اس کی شرائط کو قبول کر لیا ہے اور اب فیصلہ کرنے کی باری حماس کی ہے۔
اسرائیلی میڈیا نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں حماس کو غزہ کی پٹی میں انسانی اور سیاسی صورتحال سے متعلق ایک جامع معاہدے کی پیشکش کی ہے جو سابق اقدامات کے مقابلے میں بنیادی تبدیلیاں رکھتا ہے۔لیکس کے مطابق اس پیشکش میں یہ شرط بھی شامل ہے کہ معاہدے پر عمل درآمد کے پہلے ہی دن حماس تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو، چاہے وہ زندہ ہوں یا مردہ، رہا کر دے گی۔ اس کے بدلے میں اسرائیل سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا جنہیں سخت سزائیں سنائی گئی ہیں۔
اسرائیلی چینل 12 کے مطابق اس پیشکش میں اسرائیل کو غزہ شہر پر قبضہ کرنے کی کارروائی روکنے اور دونوں فریقوں کے درمیان براہ راست مذاکراتی راستہ کھولنے کا مطالبہ بھی شامل ہے جو جنگ کے خاتمے کے معاہدے تک پہنچنے کے مقصد سے ٹرمپ کی ذاتی نگرانی میں کیا جائے گا۔باخبر ذرائع نے ویب سائٹ ایکسیوس کو بتایا کہ امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف نے اتوار کو حماس کو غزہ کی پٹی سے متعلق جامع معاہدے کے بارے میں پیغامات پہنچائے۔ ذرائع نے مزید کہا کہ وٹکوف کے حماس کے لیے پیغامات میں غزہ میں جنگ کے خاتمے کے بدلے تمام یرغمالیوں کی رہائی شامل تھی۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے کہا ہے کہ وہ غزہ سے متعلق ٹرمپ کی آخری پیشکش کا سنجیدگی سے مطالعہ کر رہے ہیں۔
اسرائیلی براڈکاسٹنگ اتھارٹی نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ نے حماس کو ایک جامع معاہدے کے اصول پہنچائے ہیں جس کا مقصد غزہ میں جنگ کا خاتمہ اور تمام یرغمالیوں کی رہائی ہے۔باخبر ذرائع نے کہا ہے کہ یہ کوئی حتمی یا رسمی فارمولا نہیں بلکہ عام اصول ہیں جن کا مقصد مذاکرات کو جاری رکھنا ہے۔ مزید برآں ‘کان’ چینل نے اسرائیلی وزیر اعظم یاہو کے قریبی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اگر اسرائیل کو ایک حقیقی معاہدہ پیش کیا جاتا ہے تو وہ غزہ شہر پر قبضہ روکنے کے لیے تیار ہے۔
حماس نے ہفتے کی شام اعلان کیا تھا کہ وہ کسی بھی ایسی پیشکش کے لیے تیار ہے جس سے غزہ کی پٹی میں مستقل جنگ بندی ہو سکے۔حماس نے ایک بیان میں کہا کہ وہ 18 اگست کو ثالثوں کی جانب سے پیش کردہ جنگ بندی کی تجویز پر اپنی اور فلسطینی گروپوں کی رضامندی کو دوبارہ دہراتی ہے۔ وہ کسی بھی ایسے خیالات یا تجاویز کے لیے تیار ہے جو مستقل جنگ بندی، غزہ سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا، غیر مشروط امداد کی فراہمی اور ثالثوں کے ذریعے سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے حقیقی قیدیوں کا تبادلہ یقینی بنا سکیں۔



