ریپ کیس کے مجرم کو 25 لاکھ کا معاوضہ، سپریم کورٹ نے مدھیہ پردیش حکومت کی سخت سرزنش کی
مدھیہ پردیش حکومت کو سزا سے 4.7 سال زائد قید کاٹنے والے مجرم کو 25 لاکھ روپے معاوضہ دینا ہوگا
سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، مدھیہ پردیش حکومت کو پھٹکار
نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) سپریم کورٹ نے مدھیہ پردیش حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایک ایسے مجرم کو 25 لاکھ روپے کا معاوضہ ادا کرے جسے ریپ کیس میں 7 سال کی سزا مکمل کرنے کے باوجود مزید 4.7 سال غیر قانونی طور پر جیل میں رہنا پڑا۔جسٹس جے بی پارڈی والا اور جسٹس کے وی وشواناتھن کی بنچ نے اس معاملے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو شدید پھٹکار لگائی۔
ابتدائی طور پر جب سپریم کورٹ نے ریاست کو نوٹس جاری کیا تو یہ بات سامنے آئی کہ قیدی کو 8 سال کی اضافی سزا سنائی گئی ہے۔ تاہم، حکومت کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل نچیکیتا جوشی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ قیدی کچھ عرصے سے ضمانت پر رہا تھا۔
اس پر بنچ نے حکومت کے وکیل سے "گمراہ کن حلف نامہ” داخل کرنے پر سوال اٹھایا اور مدھیہ پردیش لیگل سروسز اتھارٹی کو ایسے ہی حالات میں دیگر متاثرین کی نشاندہی کرنے کی ہدایت دی۔
درخواست گزار کو 2004 میں مدھیہ پردیش کی سیشن عدالت نے تعزیرات ہند کی دفعات 376(1)، 450 اور 560B کے تحت قصوروار قرار دیا تھا اور عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ ساتھ ہی 2000 روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا تھا۔
2007 میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے اس کی سزا کو کم کر کے 7 سال کر دیا۔ مگر اس کے باوجود اسے جون 2025 تک یعنی 4.7 سال اضافی قید میں رکھا گیا اور بعد میں رہا کیا گیا۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ شہریوں کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ متاثرہ قیدی کو فوری طور پر 25 لاکھ روپے کا معاوضہ دیا جائے۔ ساتھ ہی مدھیہ پردیش لیگل سروسز اتھارٹی کو یہ ذمہ داری دی گئی کہ ایسے دیگر متاثرین کو بھی تلاش کیا جائے جنہیں اسی طرح غیر قانونی طور پر جیل میں رکھا گیا ہو۔



