ہندوستان کے 17ویں نائب صدر کا انتخاب آج، جانئے ووٹنگ کا طریقہ، امیدوار اور دلچسپ حقائق
نائب صدر کی تنخواہ اور سہولیات
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ہندوستان میں نائب صدر کا عہدہ صدر کے بعد ملک کا دوسرا سب سے بڑا آئینی عہدہ ہے۔ 17ویں نائب صدر کے انتخاب کے لیے آج منگل 9 ستمبر کو ووٹنگ ہوگی۔ این ڈی اے کی طرف سے سی پی رادھا کرشنن اور اپوزیشن اتحاد کی طرف سے بی سدرشن ریڈی امیدوار ہیں۔ ووٹنگ کے اختتام کے بعد شام میں ہی نتیجہ کا اعلان کر دیا جائے گا۔ یہ انتخاب 21 جولائی کو نائب صدر جگدیپ دھنکھر کے اچانک استعفیٰ کے بعد کرایا جا رہا ہے۔
اس بار ووٹنگ صبح 10 بجے سے شام 5 بجے تک پارلیمنٹ ہاؤس کے کمرہ نمبر F-101 میں ہوگی۔ گنتی شام 6 بجے شروع ہوگی اور اسی دن فاتح کا اعلان کر دیا جائے گا۔ نائب صدر کے انتخاب میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوان، یعنی راجیہ سبھا اور لوک سبھا کے منتخب اور نامزد اراکین ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔ اس بار کل 781 ارکان ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔
نائب صدر کا انتخاب سنگل ٹرانسفر ایبل ووٹ سسٹم کے تحت خفیہ بیلٹ کے ذریعے ہوتا ہے۔ ووٹر اپنی ترجیح 1 اور 2 کے طور پر درج کرتے ہیں، جو ہندی یا انگریزی میں ہو سکتی ہے۔ اس انتخاب میں پارٹی وہپ لاگو نہیں ہوتا، اس لیے اراکین اپنی مرضی سے کسی بھی امیدوار کو ووٹ دے سکتے ہیں۔
اگر کوئی امیدوار کل درست ووٹوں کے چھٹے حصے سے کم ووٹ حاصل کرتا ہے تو اس کی 15 ہزار روپے کی ضمانت ضبط کر دی جاتی ہے۔ انتخاب کے نتائج کو سپریم کورٹ میں صرف 30 دن کے اندر چیلنج کیا جا سکتا ہے۔
نائب صدر کی تنخواہ اور سہولیات
نائب صدر کو ماہانہ 4 لاکھ روپے کی تنخواہ دی جاتی ہے اور انہیں سرکاری رہائش، سفری سہولیات، سیکیورٹی، طبی سہولیات اور عملہ فراہم کیا جاتا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں 50 فیصد پنشن اور دیگر مراعات بھی حاصل رہتی ہیں۔ سابق نائب صدر کو بنگلہ، پرائیویٹ سیکرٹری، طبی سہولیات اور دیگر عملہ فراہم کیا جاتا ہے جبکہ شریک حیات کو زندگی بھر رہائش کا حق حاصل ہوتا ہے۔
این ڈی اے کے امیدوار سی پی رادھا کرشنن سابق گورنر ہیں اور انہوں نے مہاراشٹر، جھارکھنڈ، تلنگانہ اور پڈوچیری کے عہدوں پر کام کیا ہے۔ وہ دو بار لوک سبھا کے رکن رہ چکے ہیں اور تمل ناڈو و کیرالہ بی جے پی کے اہم عہدوں پر فائز رہے۔ پیشے سے تاجر ہونے کی وجہ سے ان کے اثاثے تقریباً 67 کروڑ روپے ہیں۔
اپوزیشن کے امیدوار بی سدرشن ریڈی 8 جولائی 1946 کو آندھرا پردیش کے ضلع رنگاریڈی میں پیدا ہوئے۔ وہ عثمانیہ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کر چکے ہیں اور آندھرا پردیش ہائی کورٹ، گوہاٹی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے جج رہ چکے ہیں۔ 2013 میں وہ گوا کے لوک آیکت بھی مقرر ہوئے تھے۔



