سرورققومی خبریں

ITR فائلنگ 2025: موبائل سے منٹوں میں انکم ٹیکس ریٹرن فائل کریں، دیر کرنے پر 5000 روپے جرمانہ

موبائل سے آئی ٹی آر فائل کرنے کا طریقہ

نئی دہلی :(اردودنیا.اِن ڈیسک)انکم ٹیکس ریٹرن (ITR) فائل کرنے کی آخری تاریخ 15 ستمبر 2025 ہے۔ اگر اس تاریخ تک ریٹرن فائل نہ کیا گیا تو نہ صرف 5000 روپے تک کا جرمانہ دینا ہوگا بلکہ ہر ماہ 1% تک اضافی سود بھی لگ سکتا ہے۔ خاص طور پر ان افراد کے لیے جن کی آمدنی 5 لاکھ روپے سے زیادہ ہے، جرمانہ براہ راست 5000 روپے تک پہنچ جاتا ہے۔

موبائل سے آئی ٹی آر فائل کرنے کا طریقہ

محکمہ انکم ٹیکس نے موبائل ایپس کے ذریعے فائلنگ کو مزید آسان بنا دیا ہے۔ اینڈرائیڈ اور آئی او ایس پر AIS نامی آفیشل ایپس دستیاب ہیں، جن کے ذریعے:

  • پین، آدھار یا رجسٹرڈ یوزر آئی ڈی سے لاگ ان کیا جا سکتا ہے۔

  • آدھار OTP اور ملٹی فیکٹر تصدیق کی سہولت ہے۔

  • AIS (Annual Information Statement) اور TIS (Taxpayer Information Summary) پہلے سے بھری تفصیلات فراہم کرتے ہیں۔

  • FD سود، کرایہ یا دیگر آمدنی کے ذرائع شامل کیے جا سکتے ہیں۔

  • ریٹرن مکمل ہونے کے بعد آدھار OTP، نیٹ بینکنگ یا DSC کے ذریعے ای-ویری فائی کیا جا سکتا ہے۔

نجی ای فائلنگ پلیٹ فارمز بھی مددگار

سرکاری ایپس کے علاوہ کچھ پرائیویٹ پلیٹ فارمز بھی ITR فائلنگ میں مدد فراہم کرتے ہیں:

  • ClearTax: فارم 16 اپ لوڈ اور ذاتی ٹیکس مشورہ۔

  • TaxBuddy: ریئل ٹائم ماہر کی رہنمائی اور کٹوتیوں کی وضاحت۔

  • MyITreturn: انفرادی اور کاروباری دونوں زمروں کے لیے سپورٹ۔

یہ پلیٹ فارمز غلطی کا پتہ لگانے، کٹوتی کی اصلاح (80C، 80D) اور ٹیکس بچانے کی تجاویز بھی فراہم کرتے ہیں۔

ریٹرن فائل کرتے وقت اکثر لوگ یہ غلطیاں کرتے ہیں:

  • غلط ITR فارم کا انتخاب۔

  • آمدنی کے تمام ذرائع کی اطلاع نہ دینا (جیسے FD سود یا فری لانس آمدنی)۔

  • فارم 16 اور 26AS میں فرق۔

  • ریٹرن فائل کرنے کے بعد ای-ویری فائی نہ کرنا۔

اگر ای فائلنگ میں کوئی غلطی ہو جائے تو انکم ٹیکس ایکٹ کی سیکشن 154 کے تحت اصلاحی درخواست داخل کی جا سکتی ہے، جس کے ذریعے حساب کی غلطیاں، غلط TDS یا ٹیکس کریڈٹ مسائل درست کیے جا سکتے ہیں۔

کن لوگوں کے لیے ریٹرن فائل کرنا لازمی ہے؟

یہ آخری تاریخ ان سب پر لاگو ہے جن کے اکاؤنٹس آڈٹ کے تابع نہیں ہیں، بشمول:

  • تنخواہ دار اور پیشہ ور افراد جن کی آمدنی 50 لاکھ روپے تک ہے۔

  • وہ لوگ جن کی آمدنی بنیادی چھوٹ کی حد سے زیادہ ہے۔

  • بیرون ملک سفر (2 لاکھ روپے یا زیادہ) یا ایک لاکھ روپے سے زیادہ بجلی کے بل ادا کرنے والے۔

  • کرنٹ اکاؤنٹ میں ایک کروڑ روپے سے زیادہ جمع کرنے والے۔

  • پیشہ ورانہ آمدنی 10 لاکھ روپے سے زیادہ رکھنے والے۔

  • وہ لوگ جن کا TDS یا TCS 25,000 روپے (سینئر سٹیزن کے لیے 50,000 روپے) سے زیادہ ہے۔

  • جن کے پاس غیر ملکی اثاثے ہیں یا ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button