بین الاقوامی خبریں

اسرائیلی فوج کا غزہ کے تمام رہائشیوں کو فوری انخلا کا حکم

"غزہ کے عوام، میری بات غور سے سنو: تمہیں خبردار کر دیا گیا ہے، وہاں سے نکل جاؤ۔"

غزہ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اسرائیلی فوج نے منگل کی صبح غزہ شہر کے تمام علاقوں سے رہائشیوں کو انخلا کا حکم دیا ہے اور انہیں الرشید کوریڈور کے ذریعے المواصی کے انسانی ہمدردی والے علاقے کی طرف جانے کی ہدایت کی ہے۔ فوجی ترجمان اویخائی ادرعی نے "ایکس” پر ایک پوسٹ میں خبردار کیا کہ:

"غزہ کے رہائشی اور اس کے تمام علاقوں میں موجود افراد، پرانے شہر اور مشرقی تفاح سے لے کر مغرب میں سمندر تک، فوری طور پر جنوب میں المواصی کی طرف نکل جائیں۔”

ادرعی نے مزید کہا کہ فوج فیصلہ کن کارروائی کے لیے پرعزم ہے اور "غزہ شہر کے علاقے میں بھرپور طاقت سے کام کرے گی، جیسا کہ اس نے پورے علاقے میں کیا ہے۔” انخلا کے احکامات پہلے بھی دیے جا چکے ہیں جب اسرائیلی فوج ایک نئے حملے کی تیاری کر رہی تھی تاکہ اس خطے کے سب سے بڑے شہری مرکز پر قبضہ کیا جا سکے، جو عالمی سطح پر خدشات پیدا کر رہا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ فضائیہ نے گزشتہ دو دنوں میں غزہ میں 50 رہائشی ٹاور تباہ کر دیے ہیں اور یہ بات زور دے کر کہی کہ یہ تو صرف بڑے فوجی آپریشن کی "ابتداء” ہے۔ نیتن یاہو نے غزہ کے رہائشیوں سے مخاطب ہو کر کہا:

"غزہ کے عوام، میری بات غور سے سنو: تمہیں خبردار کر دیا گیا ہے، وہاں سے نکل جاؤ۔”

اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاتس نے بھی غزہ شہر کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا:

"آج ایک زبردست طوفان غزہ شہر کے آسمان کو ہلا دے گا اور دہشت گردی کے ٹاوروں کی چھتیں لرزیں گی۔ یہ حماس کے رہنماؤں اور کارکنوں کے لیے آخری وارننگ ہے، چاہے وہ غزہ میں ہوں یا باہر کے پرتعیش ہوٹلوں میں۔ یرغمالیوں کو رہا کرو اور اپنے ہتھیار ڈال دو، ورنہ غزہ تباہ ہو جائے گا اور تم بھی۔”

غزہ شہر، جہاں دس لاکھ فلسطینی رہائش پذیر ہیں، اس پر قبضہ جنگ بندی کی کوششوں کو مزید مشکل بنا رہا ہے، جو تقریباً دو سال سے جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے سوائے اس مشن کو مکمل کرنے اور حماس کو شکست دینے کے، کیونکہ وہ ہتھیار ڈالنے سے انکار کرتی ہے۔

دوسری جانب فلسطینی تحریک کا کہنا ہے کہ وہ صرف ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی صورت میں ہی ہتھیار ڈالے گی۔ امریکہ، قطر اور مصر کی ثالثی کی کوششیں اب تک اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔

اقوام متحدہ نے غزہ میں قحط کا اعلان کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ پانچ لاکھ افراد "تباہ کن” حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے جنوبی اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہوئی، جس میں 1219 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے جواب میں اسرائیل نے جنگ کا اعلان کیا۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں 64,522 افراد جاں بحق ہوئے ہیں، جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔

اسرائیل پہلے ہی غزہ پٹی کے 75 فیصد حصے پر قابض ہے، اور اسرائیلی حکام کے مطابق غزہ میں موجود 48 میں سے 20 یرغمالی ابھی تک زندہ ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button