ٹرمپ کی قانونی مشکلات میں اضافہ، عصمت دری کیس میں 83 ملین ڈالر ہرجانے کا فیصلہ برقرار
ٹرمپ نے نیویارک کے ایک ڈپارٹمنٹ اسٹور کے ڈریسنگ روم میں ان کی عصمت دری کی
نیویارک:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) امریکی عدالت نے سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ایک بڑا جھٹکا دیا ہے۔ نیویارک کی سیکنڈ یو ایس سرکٹ کورٹ آف اپیلس نے ٹرمپ کی وہ اپیل مسترد کر دی جس میں انہوں نے صحافی اور قلمکار ای جین کیرول کو دیے گئے 83.3 ملین ڈالر (تقریباً 693 کروڑ روپے) ہرجانے کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
81 سالہ ای جین کیرول، جو ’ایلی‘ میگزین کی سابق کالم نگار ہیں، نے الزام لگایا تھا کہ 1990 کی دہائی میں ٹرمپ نے نیویارک کے ایک ڈپارٹمنٹ اسٹور کے ڈریسنگ روم میں ان کی عصمت دری کی۔ ٹرمپ نے ان الزامات کو 2019 میں یہ کہہ کر رد کیا تھا کہ کیرول ’’میرے ٹائپ کی نہیں ہیں‘‘ اور یہ کہانی انہوں نے اپنی کتاب فروخت کے لیے گھڑی ہے۔
عدالت کے تین رکنی بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جیوری کی جانب سے دیا گیا ہرجانے کا فیصلہ کیس کی سنگین اور غیر معمولی صورتحال کو دیکھتے ہوئے درست اور مناسب ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ٹرمپ اس مقدمے میں صدر کے عہدے کی امیونٹی کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔
ٹرمپ نے موقف اختیار کیا تھا کہ امریکی سپریم کورٹ کے 2024 کے فیصلے کی بنیاد پر انہیں کریمنل اور سول مقدمات میں استثنیٰ حاصل ہونا چاہیے، لیکن عدالت نے ان دلائل کو رد کر دیا۔
یاد رہے کہ مئی 2023 میں بھی ایک جیوری نے ٹرمپ کو 5 ملین ڈالر ہرجانے کی ادائیگی کا حکم دیا تھا، جسے 2024 میں برقرار رکھا گیا۔ جنوری 2024 میں سامنے آنے والے 83.3 ملین ڈالر کے فیصلے میں سے 18.3 ملین ڈالر ہتک عزت اور وقار کو ٹھیس پہنچانے کے لیے جبکہ 65 ملین ڈالر تعزیری ہرجانے کے طور پر شامل تھے۔
ابھی تک وائٹ ہاؤس اور ٹرمپ کی قانونی ٹیم نے اس تازہ عدالتی فیصلے پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔ ای جین کیرول نے حال ہی میں اپنی کتاب "Not My Type: One Woman vs a President” میں ٹرمپ کے خلاف اپنی قانونی جنگ کی تفصیل بیان کی ہے۔یہ فیصلہ ٹرمپ کے لیے ایک بڑا قانونی دھچکا مانا جا رہا ہے، جو اس وقت بطور صدر اپنے دوسرے دور کے آغاز پر ہیں۔



