چار بچے پیدا کرو، ٹیکس سے چھوٹ پاؤ: یونانی حکومت کا منفرد فیصلہ
شرح پیدائش میں کمی اور بزرگ ہوتی آبادی کے بحران سے نمٹنے کے لیے یونان کا انوکھا ٹیکس ریفارم پلان
ایتھنز:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)یورپ کے بیشتر ممالک جہاں بزرگ آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے، وہاں شرح پیدائش میں مسلسل کمی ایک بڑا بحران بنتی جا رہی ہے۔ انہی مسائل کا سامنا کر رہا ہے جنوب مشرقی یورپ کا ملک یونان، جس نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک انوکھا قدم اٹھایا ہے۔
یونانی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ خاندان جن کے چار بچے ہوں گے، انھیں مکمل ٹیکس سے چھوٹ فراہم کی جائے گی۔ اس پالیسی کا مقصد شہریوں کو زیادہ بچے پیدا کرنے کی ترغیب دینا اور آبادی میں توازن قائم کرنا ہے۔
وزیر اعظم کیریاکوس متسوٹاکس نے تقریباً 1.4 ارب یورو کے راحتی منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ گزشتہ 50 برس میں سب سے بڑی ٹیکس ریفارم ہے۔ ان کے مطابق، اگر موجودہ صورتحال جاری رہی تو 2050 تک یونان کی آبادی گھٹ کر 80 لاکھ سے بھی کم رہ جائے گی اور 36 فیصد آبادی عمر رسیدہ ہو سکتی ہے۔
نئی پالیسی 2026 سے نافذالعمل ہوگی۔سبھی شہریوں کے لیے انکم ٹیکس میں 2 فیصد کی کمی۔چار بچوں والے کم آمدنی کے خاندانوں کو صفر فیصد ٹیکس کی سہولت۔1500 سے کم آبادی والی بستیوں کے رہائشیوں کو بھی ٹیکس چھوٹ۔
یونان میں اس وقت شرح پیدائش یورپ میں سب سے کم ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، ہر خاتون اوسطاً 1.4 بچے پیدا کر رہی ہیں، جو مستقبل کے لیے خطرناک رجحان ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو یونان یورپ کا سب سے زیادہ بزرگ آبادی والا ملک بن جائے گا۔
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ "اگر کسی کے پاس بچے نہیں ہیں تو اخراجات کی نوعیت مختلف ہوتی ہے، لیکن دو یا تین بچوں کے ساتھ زندگی گزارنا بالکل مختلف ہے۔ ایسے میں ایک ملک کے طور پر ہمیں ان شہریوں کو انعام دینا ہوگا جو زیادہ بچے پیدا کرنے کا انتخاب کرتے ہیں۔”یہ فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یورپ میں کم ہوتی آبادی اب ایک معاشی اور سماجی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے، جسے حل کرنے کے لیے حکومتیں غیر معمولی اقدامات اٹھا رہی ہیں۔



