بین الاقوامی خبریں

قطر میں خوفناک دھماکے، اسرائیل کا دوحہ پر حملہ، حماس کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

اسرائیلی کارروائی کی شدید مذمت

دوحہ (قطر)، 9 ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اچانک خوفناک دھماکوں کی آوازیں گونج اٹھیں۔ اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کی قیادت کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کرتے ہوئے فضائی حملہ کیا ہے۔ مقامی وقت کے مطابق منگل کی دوپہر کتارا ڈسٹرکٹ میں میں زوردار دھماکے سنے گئے اور بعد ازاں فضا میں کالا دھواں بلند ہوتا رہا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دھماکے حماس کے مذاکراتی ہیڈکوارٹر کے قریب ہوئے، جہاں تنظیم کے اہم رہنما موجود رہتے ہیں۔ حماس کے قریبی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس فضائی حملے کا مقصد تنظیم کی قیادت کو نشانہ بنانا تھا۔

اسرائیلی میڈیا چینل 12 نے بھی اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ یہ دھماکے دراصل اسرائیلی ایئر فورس کی جانب سے کیے گئے فضائی حملے کا نتیجہ تھے۔ ان حملوں کا ہدف مبینہ طور پر دوحہ میں موجود حماس کا جنرل ہیڈکوارٹر تھا۔

فی الحال ہلاکتوں اور زخمیوں کی کوئی سرکاری اطلاع سامنے نہیں آئی ہے، تاہم قطر کے سیکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور صورتحال پر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے۔

قطری حکام نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی اسرائیلی فضائیہ کی جانب سے کی گئی۔ فی الحال ہلاکتوں یا زخمیوں کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ یہ دوسرا موقع ہے جب توانائی سے مالا مال ملک قطر براہِ راست اس خطے کی جنگ کی لپیٹ میں آیا ہے۔

یاد رہے کہ ۷ اکتوبر ۲۰۲۳ کو حماس کے حملے کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان شروع ہونے والی جنگ نے پورے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔اس دوران قطر ایئرویز کی پروازیں دوحہ ایئرپورٹ پر اترتی رہیں جبکہ قطر فضائیہ کا کم از کم ایک جنگی طیارہ ملک کی فضاؤں میں گشت کرتا دیکھا گیا۔

قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے اسرائیلی کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے "بزدلانہ حملہ” اور "بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی” قرار دیا۔

واضح رہے کہ قطر کا وسیع العدید ایئربیس، جو امریکی افواج کے سینٹرل کمانڈ کا ہیڈکوارٹر ہے، اس سے قبل ایران-اسرائیل جنگ کے دوران ایرانی حملے کی زد میں آ چکا ہے، جب امریکی بمبار طیاروں نے ایران کے جوہری مراکز پر کارروائی کی تھی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button