سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

نبی ﷺ کے اخلاقِ حسنہ معاشرت کے آئینہ میں,حضرت رحمۃ اللہ علیہ

رسول اللہ ﷺ کی شخصیت، اخلاق اور ایثار: ایک مکمل رہنمائی

آپ ﷺ بڑے شفیق اور مہربان تھے

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اے لوگو! تمہارے پاس ایک ایسے شخص تشریف لائے ہیں جو تمہاری جنس (بشر) سے ہیں جن کو تمہاری مضرت کی بات نہایت گراں گذرتی ہے جو تمہاری منفعت کے بڑے خواہشمند رہتے ہیں بالخصوص ایمانداروں کے ساتھ تو بڑے ہی شفیق اور مہربان ہیں۔ (سورہ توبہ) ایک اور جگہ فرمایا: اس بات سے نبی ﷺ کو ناگواری ہوتی ہے سو وہ تمہارا لحاظ کرتے ہیں اور زبان سے نہیں فرماتے کہ اٹھ کر چلے جائو اور اللہ تعالیٰ صاف بات کہنے سے کسی کا لحاظ نہیں کرتے۔ (احزاب)

آپ ﷺ کی مروت کا کیا عالم ہے کہ اپنے غلاموں کو بھی یہ فرماتے ہوئے شرماتے تھے کہ اب اپنے کاموں میں لگو اور یہ لحاظ اپنے ذاتی معاملات میں تھا اور احکام کی تبلیغ میں نہ تھا۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی دس برس خدمت کی، آپ ﷺ نے کبھی مجھ کو اف بھی نہ کیا اور نہ کبھی یہ فرمایا کہ فلاں کام کیوں کیا اور فلاں کام کیوں نہیں کیا۔ (بخاری ومسلم) یعنی ہر وقت کے خادم کو دس برس تک ہوں سے ہاں نہ فرمایا یہ معمولی بات نہیں، کیا اتنے عرصہ تک کوئی بات بھی خلاف مزاج لطیف نہ ہوئی ہوگی؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سب سے بڑھ کر خوش خلق تھے، آپ نے مجھ کو ایک دن کسی کام کے لئے بھیجا، میں نے کہا میں تو نہیں جاتا اور دل میں یہ تھا کہ جہاں حکم دیا ہے وہاں جائوں گا، یہ بچپن کا اثر تھا، میں وہاں سے نکلا تو بازار میں چند کھیلنے والے لڑکوں پر گزرا اچانک رسول اللہ ﷺ نے پیچھے سے آکر گردن پکڑلی، میں نے آپ ﷺ کو دیکھا تو آپ ﷺ ہنس رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا تم تو جہاں میں نے کہا تھا جارہے ہو؟ میں نے عرض کیا جی ہاں یا رسول اللہ ﷺ میں جارہا ہوں۔ (مسلم)

حضور ﷺ کی سخاوت اور عفو ودرگذر کی انتہا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں حضور ﷺ کے ساتھ جارہا تھا اور آپ ﷺ کے بدن مبارک پر ایک نجران کا بنا ہوا موٹی کنی کا چادرہ تھا، ایک بدونے آپ ﷺ کی چادر کو پکڑ کر بڑے زور سے کھینچا اور آپ ﷺ اس کے سینہ کے قریب جا پہنچے پھر کہا اے محمد ﷺ! میرے لئے بھی اللہ کے اس مال میں سے دینے کا حکم دو جو آپ کے پاس ہے، آپ ﷺ نے اس کی طرف التفات فرمایا پھر ہنسے پھر اس کے لئے عطا فرمانے کا حکم دیا۔ (بخاری ومسلم)

آپ ﷺ سب سے زیادہ سخی تھے

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ سے کبھی کوئی چیز نہیں مانگی گئی جس پر آپ ﷺ نے یہ فرمایا ہو کہ نہیں دیتا، اگر ہوا دے دیا ورنہ اس وقت معذرت اور دوسرے وقت کے لئے وعدہ فرمایا۔ (بخاری ومسلم) حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے بکریاں مانگیں جو آپ ﷺ ہی کی تھیں اور دوپہاڑوں کے درمیان پھر رہی تھیں، آپ ﷺ نے اس کو سب دے دیں، وہ اپنی قوم میں گیا اور کہنے لگا: اے قوم کے لوگو! مسلمان ہوجائو، واللہ محمد ﷺ خوب دیتے ہیں کہ خالی ہاتھ رہ جانے کا بھی اندیشہ نہیں کرتے۔ (مسلم)

جبیر بن معطمؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چل رہے تھے جب کہ آپ مقام حنین سے واپس ہورہے تھے، آپ ﷺ کو بدو لوگ لپٹ گئے وہ آپ ﷺ سے مانگ رہے تھے، یہاں تک کہ آپ ﷺ کو ببول کے ایک درخت سے لگا دیا اور آپ ﷺ کا چادرہ چھین لیا، آپ ﷺ کھڑے ہوگئے اور فرمایا کہ میرا چادرہ تو دے دو، اگر میرے پاس ان درختوں کی گنتی کے برابر اونٹ ہوتے تو میں تم سب میں تقسیم کردیتا پھر تم مجھ کو نہ بخیل پائو گے نہ چھوٹا نہ تھوڑے دل کا۔ (بخاری شریف)

آپ ﷺ گھر میں ایک معمولی آدمی کی طرح رہتے

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب صبح کی نماز پڑھ چکتے تو مدینہ والوں کے غلام اپنے برتن لاتے جن میں پانی ہوتا تھا، جو برتن بھی آپ ﷺ کے ساتھ پیش کرتے، آپ ﷺ برکت کے لئے اس میں اپنا دست مبارک ڈال دیتے، بعض اوقات سردی کی صبح ہوتی تب بھی اپنا دست مبارک اس میں ڈال دیتے۔ (مسلم) ان ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سخت مزاج نہ تھے اور نہ ہی سنا دینے والے تھے، کوئی بات عتاب کی ہوتی تو یوں فرماتے: فلاں شخص کیا ہوگیا اس کی پیشانی کو خاک لگ جائے، (جس سے کوئی تکلیف ہی نہیں، خصوصاً اگر سجدہ میں لگ جائے تب تو یہ دعا ہے نمازی ہونے کی اور نماز میں خاصیت ہے بری باتوں سے روکنے کی تو یہ اصلاح کی دعا ہوئی۔)(بخاری)

آپ ﷺ سب سے زیادہ باحیاء تھے

حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس قدر شرمگیں تھے کہ کنواری لڑکی جیسے اپنے پردہ میں ہوتی ہے اس سے بھی زیادہ، جب کوئی بات ناگوار دیکھتے تو شرم کے سبب زبان سے نہ فرماتے تھے مگر ہم لوگ اس کا اثر آپ ﷺ کے چہرہ مبارک میں دیکھتے تھے۔ (بخاری ومسلم) حضرت اسودؓ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ گھر کے اندر کیا کام کرتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ اپنے گھروالوں کے کام میں لگے رہتے تھے۔ (بخاری)

حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنا جوتا گانٹھ لیتے تھے اور اپنا کپڑا سی لیتے تھے اور اپنے گھر میں ایسے کام کرلیتے تھے جس طرح تم میں معمولی آدمی اپنے گھر میں کام کرلیتا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا یہ بھی فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ منجملہ بشروں کے ایک بشر تھے، گھر کے اندر مخدوم اور ممتاز ہوکر نہ رہتے تھے، اپنے کپڑوں میں جوئیں دیکھ لیتے تھے کہ شاید کسی کی چڑھ گئی ہو کیوں کہ آپ ﷺ اس سے پاک تھے اور اپنی بکری کا دودھ نکال لیتے تھے، یہ مثالیں ہیں گھر کے کام کی، کیوں کہ رواج کے مطابق یہ کام گھر والوں کے کرنے کے ہوتے ہیں اور اپنا ذاتی کام بھی کرلیتے تھے۔ (ترمذی)

آپ ﷺ معاشرہ میں گھل مل کر وقت گذارتے

حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کسی جاندار کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا اور نہ کسی عورت کو نہ کسی خادم کو، راہِ خدا میں جہاد اس سے مستثنیٰ ہے، مراد وہ مارنا ہے جیسے غصہ کے جوش میں کسی کو مارے اور آپ ﷺ کو کبھی کوئی ایسی تکلیف نہیں پہنچائی گئی جس میں آپ ﷺ نے اس تکلیف پہنچانے والے سے انتقام لیا ہو البتہ اگر کوئی شخص اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے کسی چیز کا ارتکاب کرتا تو اس وقت آپ ﷺ اللہ کے لئے اس سے انتقال لیتے تھے۔ (مسلم)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کا حال بیان کرتے تھے کہ آپ ﷺ بیمار کی بیمارپرسی فرماتے تھے اور جنازہ کے ساتھ جاتے تھے۔ (ابن ماجہ وبیہقی) حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی شخص سے مصافحہ کرتے تو آپ ﷺ اپنا ہاتھ اس کے ہاتھوں میں سے خود نہ نکالتے تھے یہاں تک کہ وہی اپنا ہاتھ نکال لیتا تھا اور نہ اپنا منھ اس کی طرف سے پھیر تے تھے یہاں تک کہ وہی اپنا منھ آپ ﷺ کی طرف سے پھیرلیتا تھا اور آپ ﷺ کبھی اپنے پاس بیٹھنے والے کے سامنے اپنے زانو کو بڑھائے ہوئے نہیں دیکھے گئے بلکہ صف میں سب کے برابر بیٹھتے تھے، ایک مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ زانو سے مراد پائوں ہوں یعنی آپ ﷺ کسی کی طرف پائوں نہ پھیلاتے تھے۔ (ترمذی)

میں تو صرف رحمت بناکر بھیجا گیا ہوں

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کہ کسی موقع پرآپ ﷺ سے عرض کیا گیا یا رسول اللہ ﷺ! مشرکین پر بد دعا کیجئے! آپ ﷺ نے فرمایا: میں کوسنے والا کرکے نہیں بھیجا گیا، میں تو صرف رحمت بناکر بھیجا گیا ہوں۔ (مسلم) اس لئے آپ ﷺ کی عادت دشمنوں پر بھی دعائے خیر کرنے کی تھی اور کبھی کبھار اپنے مالک حقیقی سے فریاد کے طور پر کچھ کہہ دینا کہ ان کی شرارت سے آپ ﷺ کی حفاظت فرمادے۔ یہ اور بات ہے۔

حضرت عائشہ ؓ سے ایک لمبا قصہ طائف کا منقول ہے جس میں آپ ﷺ کو کفار کے ہاتھوں اس قدر اذیت پہنچی جس کو آپ ﷺ نے غزوۂ احد کی تکلیف سے بھی زیادہ سخت فرمایا ہے اس وقت جبرئیل علیہ السلام نے آپ ﷺ کو پہاڑوں کے فرشتے سے ملایا اس نے آپ ﷺ کو سلام کیا اور عرض کیا اے محمد ﷺ! میں پہاڑوں کا فرشتہ ہوں آپ مجھ کو حکم دیں، اگر آپ ﷺ چاہیں تو میں دونوں پہاڑوں کو ان لوگوں پر لا ملائوں جس میں یہ سب پس جائیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہیں، میں امید کرتا ہوں کہ شاید اللہ تعالیٰ ان کی نسل سے ایسے لوگ پیدا کردے جو صرف اللہ ہی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔

ایک یہودی کا آپ ﷺ سے برتاؤ

دیکھئے! اگر اس وقت ہاتھ سے بدلہ لینے کا موقع نہ تھا تو زبان سے کہنا تو آسان تھا، خصوصاً جب آپ ﷺ کو یہ یقین دلایا گیا کہ زبان ہلاتے ہی سب تہس نہس کردئے جائیں گے، مگر آپ ﷺ نے پھر بھی شفقت ہی سے کام لیا، یہ برتائو ان مخالفین سے تھا جو آپ ﷺ کے مدمقابل تھے، بعض مخالفین آپ ﷺ کی رعایا تھے جن پر باضابطہ قدرت بھی تھی، ان کے ساتھ برتائو کا حال بھی سنئے۔ حضرت علیؓ سے ایک لمبا قصہ منقول ہے جس میں کسی یہودی کا جو کہ مسلمان کی رعیت ہوکر مدینہ میں آباد تھا حضور ﷺ کے ذمہ کچھ قرض تھا اور اس نے ایک بار آپ ﷺ کو اس قدر تنگ کیا کہ اگلے دن ظہر سے صبح تک آپ ﷺ کو مسجد سے گھر بھی نہیں جانے دیا، لوگوں کے دھمکانے پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو معاہدہ اور غیر معاہد پر ظلم کرنے سے منع فرمایا ہے، اسی واقعہ میں ہے کہ جب دن چڑھا تو یہودی نے کہا ’’اَشْہَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاَشْہَدُ اَنَّکَ رَسُوْلَ اللّٰہِ‘‘ اور یہ بھی کہا کہ میں نے تو یہ سب اس لئے کیا کہ آپ ﷺ کی صفت جو توریت میں ہے کہ محمد ﷺ جو عبد اللہ کے بیٹے ہیں، آپ ﷺ کی پیدائش مکہ میں ہے اور ہجرت کا مقام مدینہ ہے اور سلطنت شام میں ہوگی (چنانچہ بعد میں ہوئی) اور آپ ﷺ نہ سخت خو اور نہ ترش مزاج ہیں نہ بازاروں میں شوروغل کرنے والے ہیں اور نہ بے حیائی کا کام اور نہ بے حیائی کی بات آپ ﷺ کی وضع میں ہے، مجھ کو یہ دیکھنا تھا کہ دیکھوں آپ ﷺ وہی ہیں یا نہیں؟ چنانچہ میں نے آپ ﷺ کو دیکھ لیا، آپ ﷺ وہی ہیں، ’’اَشْہَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاَشْہَدُ اَنَّکَ رَسُوْلَ اللّٰہِ‘‘ (بیہقی)

فتح مکہ کے موقع پر حضور ﷺ کا ایثار وکرم

ارشاد ربانی ہے ’’وَمَا اَرْسَلْنَاکَ اِلاَّ رَحْمَۃَ لِّلْعَالَمِیْنَ‘‘ ہم نے آپ ﷺ کو سارے جہاں والوں کے لئے رحمت بناکر بھیجا، آپ ﷺ اخلاق کریمہ سے آراستہ و پیراستہ تھے اور برائی کا بدلہ ہمیشہ اچھائی سے ہی دیتے تھے، جیسا کہ فتح مکہ کے موقع پر اس کا مشاہدہ ہوا، مکہ جب فتح ہوا تو حرم کے صحن میں، کس حرم کے صحن میں؟ جہاں آپ ﷺ کو گالیاں دی گئیں، آپ ﷺ کے جسم مبارک پر نجاستیں ڈالی گئیں، سارے سردار ان قریش مفتوحانہ کھڑے تھے ان میں وہ بھی جو اس پیکر قدسی کے ساتھ گستاخیوں کا حوصلہ رکھتے تھے، ان میں وہ بھی تھے جنہوں نے راستے میں کانٹے بچھائے تھے، ان میں وہ بھی تھے جنہوں نے قتل کرنے کی سازش کی تھی، ان میں وہ بھی تھے جنہوں نے آپ ﷺ کے عزیزوں کا خون ناحق کیا تھا، ان کے جسموں کو دہکتے ہوئے کوئلے سے داغا گیا تھا۔

یہ سارے کے سارے مجرم سرنگوں کھڑے تھے اور سامنے دس ہزار تلواریں محمد الرسول اللہ ﷺ کے ایک اشارے کی منتظر تھیں، دفعۃً زبان مبارک کھلتی ہے اور سوال ہوتا ہے کہ بتائو میں تمہارے ساتھ کیا کروں گا؟ انہوں نے کہا تو ہمارا شریف بھائی اور شریف بھتیجہ ہے ہم خیر ہی کی توقع رکھتے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا آج میں وہی کہتا ہوں جو حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے ظالم بھائیوں سے کہا تھا ’’لاَ تَشْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ‘‘ (آج کے دن تم پر کوئی الزام نہیں) اِذْہَبُوْا وَمَا اَنْتُمُ الطُّلَقَا جائو تم سب کے سب آزاد ہو۔

دیگر مذاہب والے اپنے نبی اور رہنما کی میٹھی باتوں کی طرف دنیا کو بلاتے ہیں اس لئے کہ ان کے پاس اس کے سوا کچھ ہے ہی نہیں، مگر مذہب اسلام میں ہر چیز آپ کو مل سکتی ہے، آج اگر کوئی خاندان اور قبیلہ عیسائی بنتا ہے اگر چہ مذہب اسے انجیل سے ملتا ہے مگر تعلیم اور اخلاق و تہذیب یورپ و امریکہ کے خود ساختہ تمدن ہی سے ملتی ہے لیکن وہی قبیلہ اگر مسلمان ہوتا تو جہاں سے اسے مذہب ملتا ہے وہیں سے اسے ساری چیز مل جاتی ہے، اس کو اپنے نبی کی سیرت سے باہر جانے کی قطعاً ضرورت نہیں، اس لئے کہ اسلام ہمہ گیر، ہمہ جہت اور آفاقی مذہب ہے جو ساری دنیائے انسانیت کے لئے ہے، اس لئے ساری تعلیمات اسی میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اسلام کی تعلیم کو عام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین! ٭

متعلقہ خبریں

Back to top button