
مرد گاہک نہیں مجرم: کیرالہ ہائی کورٹ کا کوٹھے پر جانے والوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم
جو شخص کوٹھے پر جا کر سیکس ورکر سے تعلق قائم کرتا ہے، وہ گاہک نہیں کہلا سکتا
ترواننت پورم:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) کیرالہ ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ کوٹھے پر جا کر جسمانی تعلق قائم کرنے والے افراد محض "گاہک” نہیں کہلا سکتے بلکہ وہ غیر اخلاقی تجارت (انسداد) ایکٹ 1956 کے تحت مجرم ہیں۔
جسٹس وی جی ارون نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ "جو شخص کوٹھے پر جا کر سیکس ورکر سے تعلق قائم کرتا ہے، وہ گاہک نہیں کہلا سکتا۔ گاہک وہ ہوتا ہے جو کوئی سامان یا خدمت خریدتا ہے۔ سیکس ورکر کو پروڈکٹ کہنا ان کی تذلیل ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اکثر افراد کو انسانی اسمگلنگ کے ذریعے جسم فروشی کے دھندے میں دھکیلا جاتا ہے اور انہیں مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ دوسروں کی جنسی خواہشات پوری کریں۔ ایسے میں جو شخص پیسے دے کر تعلق قائم کرتا ہے، وہ اس غیر قانونی کاروبار کو فروغ دیتا ہے اور ورکر کو مزید استحصال پر مجبور کرتا ہے۔
یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب 2021 میں پولیس نے ترواننت پورم کے پیروکاڈا علاقے میں ایک کوٹھے پر چھاپہ مارا اور دو افراد کو گرفتار کیا، جن میں ایک درخواست گزار بھی شامل تھا۔ ان پر غیر اخلاقی تجارت ایکٹ کی دفعات 3 اور 4 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
درخواست گزار نے عدالت میں اپیل کی، لیکن کیرالہ ہائی کورٹ نے کسی قسم کی رعایت دینے سے انکار کرتے ہوئے حکم دیا کہ کوٹھے پر جانے والے افراد پر بھی مقدمہ درج کیا جائے۔
یہ فیصلہ بھارت میں سیکس ورکرز کے حقوق، انسانی اسمگلنگ اور جنسی استحصال کے حوالے سے ایک بڑی عدالتی پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔



