قومی خبریں

ڈونگرپور کیس: اعظم خان اور برکت علی کو ہائی کورٹ سے ضمانت

اعظم خان کو ملی 10 سال کی سزا پر عبوری ریلیف

نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)الٰہ آباد ہائی کورٹ نے سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان کو ڈونگرپور تنازعہ معاملے میں ضمانت دے دی ہے۔ عدالت نے ان کے شریک ملزم ٹھیکیدار برکت علی کو بھی ضمانت فراہم کی ہے۔ عدالت کا یہ فیصلہ اعظم خان کے لیے بڑی قانونی راحت سمجھا جا رہا ہے، جو طویل عرصے سے یوپی کی مختلف جیلوں میں قید ہیں اور ان پر 100 سے زائد مقدمات درج ہیں۔

یاد رہے کہ 12 اگست کو سماعت مکمل ہونے کے بعد ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔ رامپور ایم پی-ایم ایل اے کورٹ نے 30 مئی 2024 کو اعظم خان کو 10 سال اور ٹھیکیدار برکت علی کو 7 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اس فیصلے کو دونوں نے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا اور اپیل کے ساتھ ضمانت کی درخواست بھی دی تھی۔

ڈونگرپور تنازعہ سے متعلق یہ مقدمہ اگست 2019 میں درج ہوا تھا۔ شکایت کنندہ ابرار نے الزام لگایا تھا کہ دسمبر 2016 میں اعظم خان، ریٹائرڈ سی او آلے حسن خان اور برکت علی نے اس پر حملہ کیا، اس کے مکان میں توڑ پھوڑ کی اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔ الزام یہ بھی تھا کہ متاثرہ کا مکان منہدم کر دیا گیا تھا۔

اس کیس میں خصوصی عدالت نے مئی 2024 میں سخت سزا سنائی تھی، تاہم ہائی کورٹ نے اعظم خان اور برکت علی کو ضمانت دے کر بڑی قانونی ریلیف فراہم کر دی ہے۔ اگرچہ اس ضمانت کے بعد بھی اعظم خان کی رہائی فوری طور پر ممکن نہیں ہے کیونکہ ان پر متعدد دیگر سنگین مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔

ڈونگرپور بستی کے لوگوں نے اس تنازعہ کے دوران تقریباً 12 مقدمے درج کرائے تھے جن میں لوٹ مار، چوری اور مار پیٹ جیسی دفعات شامل تھیں۔ ان ہی مقدمات میں سے ایک میں اعظم خان کو سزا سنائی گئی تھی۔ ہائی کورٹ کے جسٹس سمیر جین نے سنگل بنچ پر سماعت کرتے ہوئے دونوں کی ضمانت منظور کی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button