کھگڑیا (بہار):سردی نے شدت اختیار کرلی ہے، اس کے ساتھ ہی تیلی ہاڑ، کاما استھان اور گائڈ باندھ کے کنارے جھگی جھونپڑی بنا کر رہنے والے بے گھر خاندانوں کی پریشانی بڑھ گئی ہے۔ باندھ سے کچھ فاصلے پر کوسی ندی بہتی ہے اور ٹھنڈک کے موسم کے آغاز کے ساتھ ہی کوسی کے کنارے بسے خاندانوں کی روح کانپنے لگتی ہے۔
کوسی کے کنارے سے چلنے والی ٹھنڈی ہوا سیدھے جھگی جھونپڑیوں میں داخل ہوتی ہے، جہاں رہنے والے لوگ خط افلاس کے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ یہ لوگ روزانہ محنت مزدوری کرکے بمشکل دو وقت کی روٹی حاصل کرتے ہیں۔ سردیوں میں مزدوری نہ ملنے کے سبب ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔
معلوم ہو کہ تیلی ہاڑ پنچایت کے تیراسی، آ نندی سنگھ باسا، کاما استھان، ڈمری، پچاٹ اور اتمادی کے پرانی ڈیہہ کنج ہرا علاقوں میں کوسی کے کٹاؤ سے سیکڑوں خاندان بے بسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔
یہ بے گھر خاندان کہیں گائڈ باندھ پر تو کہیں زمین لیز پر لے کر جھونپڑیوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔
بجرنگ بلی استھان کے بدیشوری ٹھاکر نے بتایا کہ وہ اب تک سات بار کوسی کے کٹاؤ سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔ اس وقت وہ لیز پر زمین لے کر جھونپڑی بنا کر زندگی کے بچے کچے ایام گزار رہے ہیں۔
ان کے مطابق، زمین کے عوض زمیندار کو ہر سال دس من اناج دینا پڑتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ باسگیت پرچہ حاصل کرنے کے لیے کئی بار سرکاری عہدیداران سے اپیل کی گئی، مگر یقین دہانیوں کے سوا کچھ نہیں ملا۔
ادھر مقامی سطح پر بتایا گیا ہے کہ بے گھر خاندانوں کی باز آباد کاری کے لیے زمین کی تلاش جاری ہے، لیکن سردی کی شدت کے دوران فوری امداد نہ ملنے سے ان کی حالت مزید خراب ہوتی جا رہی ہے۔



