قومی خبریں

دہلی اور بمبے ہائی کورٹ کو بم سے اڑانے کی دھمکی، سکیورٹی ایجنسیاں ہائی الرٹ پر

دہلی اور بمبے ہائی کورٹ کو بم کی دھمکی، احاطے خالی کرائے گئے

نئی دہلی/ممبئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) ملک کی دو بڑی عدالتوں کو ایک ہی دن میں بم سے اڑانے کی دھمکی ملنے پر پولیس اور سکیورٹی ایجنسیاں پوری طرح چوکس ہو گئیں۔ جمعہ کے روز دہلی ہائی کورٹ اور بامبے ہائی کورٹ دونوں کو ای میل کے ذریعے دھمکی موصول ہوئی، جس کے بعد دونوں شہروں میں عدالت کے احاطے کو فوری طور پر خالی کرا لیا گیا۔

دہلی پولیس کے مطابق ای میل میں واضح طور پر ججوں کے کمروں میں بم نصب کرنے کا ذکر کیا گیا اور دعویٰ کیا گیا کہ دھماکے جمعہ کو دوپہر تک کیے جائیں گے۔ اس اطلاع کے بعد ججز، وکلا اور دیگر افراد کو احتیاطاً باہر نکالا گیا اور بم ڈسپوزل اسکواڈ نے عمارت کی کڑی تلاشی شروع کر دی۔ بعد ازاں دہلی پولیس نے ابتدائی طور پر اسے "ہوکس کال” یعنی جھوٹی دھمکی قرار دیا لیکن سیکورٹی پروٹوکول میں کسی طرح کی نرمی نہیں کی گئی۔

اسی دوران ممبئی میں بھی حالات سنگین ہو گئے۔ بامبے ہائی کورٹ کو بھی بالکل اسی نوعیت کا ای میل موصول ہوا، جس پر ممبئی پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے پورے احاطے کو سیل کر دیا۔ عدالت میں موجود ججز اور وکلا کو باہر بھیج دیا گیا اور بم ڈسپوزل اسکواڈ نے تلاشی آپریشن شروع کر دیا۔

سکیورٹی ایجنسیوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ دونوں ای میلز کا تعلق کسی مشترکہ نیٹ ورک یا منظم سازش سے ہو سکتا ہے۔ ای میلز کی فورینسک جانچ جاری ہے تاکہ بھیجنے والے کی شناخت کی جا سکے۔

پولیس افسران کا کہنا ہے کہ اگرچہ اب تک کسی بم کی موجودگی کی تصدیق نہیں ہوئی، لیکن کسی بھی خطرے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسی لیے دہلی اور ممبئی دونوں میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور اہم تنصیبات کے آس پاس بھی نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔قانونی برادری میں اس واقعے نے شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔ وکلا اور ججز نے کہا ہے کہ عدالتوں کو دھمکانا جمہوری اداروں پر براہ راست حملہ ہے۔ ادھر وزارت داخلہ نے دہلی اور مہاراشٹر پولیس سے اس واقعے کی فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔

اس سے قبل دہلی۔این سی آر کے متعدد اسکولوں کو بم دھماکوں کی دھمکی آمیز ای میلز موصول ہوئی تھیں، جو تفتیش کے بعد فرضی ثابت ہوئیں اور انہیں محض خوف و ہراس پھیلانے کی ایک سازش قرار دیا گیا۔ حالیہ دنوں میں بھی اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں کو اسی نوعیت کی دھوکہ دہی پر مبنی ای میلز بھیجی گئیں، جس کے نتیجے میں سکیورٹی ایجنسیاں مزید سخت نگرانی اور الرٹ رویہ اپنانے پر مجبور ہو گئیں۔ ان مسلسل واقعات نے تعلیمی ماحول میں بے یقینی اور تشویش کی کیفیت پیدا کر دی ہے، جس کے پیش نظر انتظامیہ نے حفاظتی اقدامات مزید سخت کرتے ہوئے نگرانی کے نظام کو پہلے سے زیادہ مؤثر بنا دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button