فیس بک کی دوستی کا خونی انجام: 600 کلومیٹر سفر طے کر کے محبوب کو شادی پر راضی کرنے والی خاتون کا قتل
فیس بک کی محبت 600 کلومیٹر کے سفر کے بعد قتل پر ختم
بارمر/راجستھان:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) ایک 37 سالہ خاتون نے اپنے محبوب سے شادی کرنے کے لیے 600 کلومیٹر کا سفر طے کیا، لیکن اگلے ہی دن اس کی نعش اس کی کار سے برآمد ہوئی۔ پولیس نے اس کے عاشق اسکول ٹیچر، کو قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق مقتولہ کی شناخت موکش کماری کے طور پر ہوئی ہے جو جھنجھنو میں آنگن واڑی سپروائزر تھیں۔ تقریباً دس سال قبل وہ اپنے شوہر سے علیحدہ ہو گئی تھیں۔ اکتوبر گزشتہ سال ان کی دوستی مانارام نامی اسکول ٹیچر سے فیس بک پر ہوئی جو بارمر میں رہتا تھا۔ دونوں کی ملاقاتوں نے تعلقات کو گہرا کر دیا اور کماری اکثر جھنجھنو سے بارمر (600 کلومیٹر) کا سفر کر کے اس سے ملنے آتی تھیں۔
کماری شادی کے خواہش مند تھیں جبکہ مانارام کی طلاق کا کیس ابھی عدالت میں زیر سماعت تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شادی کے معاملے پر دونوں کے درمیان اکثر تنازعہ رہتا تھا۔
10 ستمبر کو کماری اپنی آلٹو کار میں جھنجھنو سے بارمر پہنچیں۔ انہوں نے مانارام کے گھر کا پتا پوچھ کر وہاں پہنچ کر اس کے اہل خانہ کے سامنے اپنے تعلقات کا ذکر کیا، جس پر گھر والوں میں غصہ پھیل گیا اور پولیس کو بلایا گیا۔ پولیس نے دونوں کو سمجھایا اور معاملہ حل کرنے کا مشورہ دیا۔
شام کے وقت مانارام نے کماری کو بات کرنے کے بہانے بلایا۔ پولیس کے مطابق اسی دوران اس نے لوہے کی راڈ سے کماری کے سر پر وار کر کے قتل کر دیا۔ بعد میں اس نے کماری کی نعش کو گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بٹھایا اور کار کو سڑک سے نیچے پھینک کر حادثہ دکھانے کی کوشش کی۔
اگلے دن مانارام نے اپنے وکیل سے پولیس کو اطلاع دلائی۔ لیکن جب پولیس نے فون لوکیشنز اور شواہد کی جانچ کی تو حقیقت سامنے آ گئی۔ دورانِ تفتیش مانارام ٹوٹ گیا اور اس نے جرم قبول کر لیا۔
بارمر کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نریندر سنگھ نے بتایا کہ ’’ملزم نے کماری کو قتل کرنے کے بعد نعش کو اس کی گاڑی میں ڈال کر حادثہ ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ فورینسک ٹیم اور ڈاگ اسکواڈ کو بلا کر شواہد اکٹھے کیے گئے ہیں، کیس کی ہر زاویے سے جانچ ہو رہی ہے۔‘‘کماری کی نعش فی الحال ضلع اسپتال کے مردہ خانے میں رکھی گئی ہے جہاں ان کے اہل خانہ کے پہنچنے کا انتظار ہے۔



