
اساتذہ میں بے چینی، سپریم کورٹ نے دو سال میں ٹیٹ پاس کرنا لازمی قرار دیا
اندرون 2 سال ٹیٹ نہ پاس کرنے پر ملازمت سے محرومی
حیدرآباد :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ریاست تلنگانہ کے سرکاری اساتذہ کیلئے ملازمتوں پر بڑا خطرہ منڈلانے لگا ہے۔ سپریم کورٹ کے 31 اگست کو سنائے گئے فیصلے کے بعد ریاست کے تمام ٹیچرس کو دو سال کے اندر ٹیچر ایلیجبلیٹی ٹیسٹ (TET) پاس کرنا لازمی ہوگا۔ بصورت دیگر انہیں اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔فیصلے کے مطابق صرف وہی اساتذہ جن کی ملازمت کی مدت پانچ سال رہ گئی ہے، ٹیٹ سے مستثنیٰ ہوں گے لیکن انہیں ترقی حاصل کرنے کیلئے ٹیٹ کامیابی لازمی قرار دی گئی ہے۔
ریاستی اعداد و شمار
محکمہ تعلیم تلنگانہ میں تقریباً 1.07 لاکھ ٹیچرس خدمات انجام دے رہے ہیں۔ان میں سے 20 ہزار ٹیچرس پانچ سال میں سبکدوش ہو رہے ہیں اور انہیں ٹیٹ ضروری نہیں۔ریاست میں 2012، 2017 اور 2024 کے تین مرحلوں میں ٹیٹ کامیاب امیدواروں کو ملازمت دی گئی جن کی تعداد تقریباً 25 ہزار ہے۔مزید 10 ہزار ٹیچرس نے حال ہی میں ٹیٹ پاس کیا ہے۔اس طرح 40 ہزار کے قریب ٹیچرس ایسے ہیں جو بغیر ٹیٹ کے برسر خدمت ہیں۔
حق تعلیم قانون اور نیشنل کونسل فار ٹیچر ایجوکیشن (NCTE) کے مطابق، تقررات کیلئے ٹیٹ یا سی ٹیٹ لازمی ہے۔ این سی ٹی ای نے 2010 میں نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا جس میں کہا گیا کہ ٹیچرس کی ترقی کیلئے بھی ٹیٹ لازمی ہوگا۔ریاستی حکومت نے ماضی میں جی او 51 جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ یکم اپریل 2010 سے قبل بھرتی ہونے والے ٹیچرس کو ٹیٹ کی ضرورت نہیں، لیکن سپریم کورٹ نے تازہ فیصلے میں تمام ٹیچرس کو دو سال کے اندر ٹیٹ پاس کرنے کا پابند بنا دیا ہے۔
ٹیٹ امتحان کی مشکلات
ٹیٹ کا نصاب اور سوالیہ پرچوں کا پیٹرن کافی مشکل سمجھا جاتا ہے۔ماضی میں پاس فیصد صرف 19 تا 28 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔ایس سی، ایس ٹی اور بی سی امیدواروں کیلئے کم از کم 75 نشانات (50 فیصد) لازمی ہیں۔او سی امیدواروں کو 90 نشانات درکار ہیں۔بیالوجی اسسٹنٹ ٹیچر کو ریاضی جیسے غیر متعلقہ پرچوں میں 60 نشانات کیلئے امتحان دینا ہوتا ہے۔سائنس اساتذہ کیلئے فزکس اور کیمسٹری کا حصہ صرف 24 نشانات کا ہے۔سوشیل سائنس امیدواروں کو زبان میں 30 اور انگریزی میں 30 نشانات حاصل کرنے ہوتے ہیں۔ان سخت شرائط کے سبب بیشتر امیدوار امتحان میں ناکام ہو رہے ہیں جس سے اساتذہ میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔



