بین الاقوامی خبریں

امریکہ نے غزہ جنگ بندی قرارداد چھٹی بار ویٹو کر دی، عالمی سطح پر شدید ردعمل

امریکہ نے ایک بار پھر نیتن یاہو کا ساتھ دیا، غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد ویٹو کر دی

نیویارک:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) امریکہ نے ایک مرتبہ پھر اسرائیل کی حمایت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ جنگ بندی کی قرارداد ویٹو کر دی۔ یہ چھٹی بار ہے کہ واشنگٹن نے ایسی کسی قرارداد کو روکا ہے۔ قرارداد کو سلامتی کونسل کے 15 میں سے 14 ارکان نے منظور کیا تھا، جن میں تمام دس غیر مستقل اراکین بھی شامل تھے، تاہم امریکہ نے ویٹو کا استعمال کرتے ہوئے قرارداد ناکام بنا دی۔ یہ قرارداد غیر مستقل اراکین کی جانب سے پیش کی گئی تھی جس میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی، قیدیوں کی رہائی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی ترسیل پر اسرائیلی پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ قرارداد میں غزہ شہر پر بڑھتے اسرائیلی حملوں، قحط اور شہری آبادی کی تکالیف پر تشویش کا اظہار بھی کیا گیا۔

امریکی مندوب برائے اقوام متحدہ مورگن آرتاگس نے ویٹو کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ قرارداد نے اسرائیل اور حماس کو ایک ہی سطح پر رکھا ہے اور "زمینی حقائق کو نظر انداز کیا ہے”۔ ان کے مطابق اسرائیل مخصوص شرائط پر جنگ ختم کرنے پر راضی ہے مگر حماس نے اسے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حماس امداد کی ترسیل میں رکاوٹ ڈال رہی ہے اور شہریوں کو "اوزار” کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

روس اور دیگر کئی ممالک نے امریکی اقدام کی شدید مذمت کی اور کہا کہ یہ قرارداد غزہ میں خونریزی ختم کر سکتی تھی۔ ڈنمارک کی مندوب کرسٹینا مارکس لاسن نے قحط کو "ایک کڑوی حقیقت” قرار دیتے ہوئے فوری انسانی امداد کی ضرورت پر زور دیا۔ فلسطینی صدراتی دفتر نے امریکی ویٹو پر "افسوس اور حیرت” کا اظہار کیا اور کہا کہ اس فیصلے نے اسرائیل کو مزید جرائم پر اکسایا ہے۔

حماس نے امریکی اقدام کو "نسل کشی کے جرم میں براہ راست شراکت” قرار دیا اور دس ممالک کی قرارداد جمع کرانے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ حماس نے مطالبہ کیا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتنیاہو پر عالمی دباؤ ڈالا جائے جو اس وقت عالمی فوجداری عدالت میں جنگی جرائم اور نسل کشی کے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ فلسطینی تنظیم پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین (PFLP) نے بھی ویٹو کو "مزید قتل و غارت گری کے لیے گرین سگنل” قرار دیا۔۔ یہ غزہ جنگ کے آغاز کے بعد چھٹا موقع ہے جب امریکہ نے جنگ بندی سے متعلق قرارداد کو ویٹو کیا ہے، جس سے خطے میں انسانی بحران مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔

غزہ میں قحط اور انسانی بحران شدت اختیار کر چکا ہے، جبکہ اسرائیلی فوج نے غزہ شہر میں اپنی کارروائیاں بڑھا دی ہیں اور وہاں موجود ایک ملین شہریوں کو شہر چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل نے بھی حالیہ رپورٹ میں اسرائیل پر نسل کشی کے الزامات عائد کیے اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ تنازعہ ختم کرائے اور ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرائے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button