سپریم کورٹ نے دہلی فسادات کیس میں عمر خالد و شرجیل امام کی ضمانت پر دہلی پولیس کو نوٹس جاری، سماعت 7 اکتوبر مقرر
ملزمان کی حراست غیر معمولی طور پر طویل ہو چکی ہے۔
نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) سپریم کورٹ نے پیر کے روز دہلی پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے طلبہ رہنماؤں عمر خالد، شرجیل امام، میران حیدر، گلفشاں فاطمہ اور شفا الرحمٰن کی ضمانت عرضیوں پر جواب طلب کیا۔ یہ تمام ملزمان 2020 دہلی فسادات کی مبینہ بڑی سازش کیس میں گرفتار ہیں۔
جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجاریہ پر مشتمل بنچ نے سماعت کے بعد اس کیس کو 7 اکتوبر تک ملتوی کر دیا۔ سماعت کے دوران سینئر وکلاء اے ایم سنگھوی، سدھارتھ دیو اور سدھارتھ اگروال نے درخواست گزاروں کی پیروی کی۔
سماعت کے آغاز میں جسٹس کمار نے 19 ستمبر کو سماعت نہ ہونے پر افسوس ظاہر کیا اور بتایا کہ جسٹس منموہن نے سینئر ایڈووکیٹ کپل سبل سے پرانے پیشہ ورانہ تعلقات کی وجہ سے بینچ سے خود کو الگ کر لیا تھا۔
اے ایم سنگھوی نے دلیل دی کہ درخواست گزار گزشتہ پانچ سال سے زائد عرصے سے حراست میں ہیں، لہٰذا ان کی عبوری ضمانت پر بھی فوری نوٹس جاری ہونا چاہیے۔ تاہم جسٹس کمار نے کہا کہ عدالت اب براہِ راست مرکزی عرضیوں پر حتمی فیصلہ کرے گی۔
ادھر کپل سبل نے عدالت سے گزارش کی کہ اس معاملے کو دیوالی سے پہلے سنا جائے کیونکہ ملزمان کی حراست غیر معمولی طور پر طویل ہو چکی ہے۔ یہ ضمانت کی عرضیاں دہلی ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف دائر کی گئی ہیں، جس نے 2 ستمبر کو ان کی درخواستیں خارج کر دی تھیں۔
درخواست گزاروں پر الزام ہے کہ وہ شہریت ترمیمی قانون (CAA) کے خلاف احتجاج میں سرگرم تھے اور مبینہ طور پر یو اے پی اے (UAPA) اور آئی پی سی کے تحت درج مقدمے میں دہلی فسادات کی سازش میں کردار ادا کیا۔
دیگر ملزمان میں طاہر حسین، خالد سیفی، عشرت جہاں، آصف اقبال تنہا (2021 میں ضمانت ملی)، صفورا زرگر (انسانی بنیادوں پر ضمانت)، دیوانگنا کلتا اور نتاشا نروال (دونوں کو ضمانت ملی) شامل ہیں۔
2 ستمبر کے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے میں 9 ملزمان کی ضمانت مسترد کر دی گئی تھی جن میں عمر خالد، شرجیل امام، اطہر خان، خالد سیفی، محمد سلیم خان، شفا الرحمٰن، میران حیدر، گلفشاں فاطمہ اور شاداب احمد شامل ہیں۔ یہ تمام ملزمان گزشتہ پانچ برسوں سے جیل میں بند ہیں۔



