بین ریاستی خبریں

"اتراکھنڈ گریجویٹ امتحان کا پیپر لیک: دہرادون میں مظاہروں پر پابندی، دفعہ 163 نافذ”

پولیس نے شہر کے اہم علاقوں میں دفعہ 163 نافذ کر دی

نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اتراکھنڈ سب آرڈینیٹ سروس سلیکشن کمیشن (UKSSSC) کے گریجویٹ سطحی امتحان کے پیپر لیک ہونے کے بعد ریاست میں سیاسی اور سماجی ماحول گرم ہو گیا ہے۔ اس معاملے نے طلبہ اور مختلف سماجی تنظیموں میں شدید احتجاج کو جنم دیا ہے۔

21 ستمبر کو منعقدہ امتحان کے دوران صبح 11:35 بجے ہی پیپر کے تین صفحات سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئے، جس کے بعد امیدواروں نے اصل پرچے سے موازنہ کیا تو یہ صفحات مکمل طور پر یکساں پائے گئے۔ امتحان سے پہلے بھی لیک ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے اور پولیس نے ہفتہ کے روز پیپر لیک گینگ کے مبینہ سرغنہ حاکم سنگھ کو گرفتار کر لیا تھا۔ حاکم سنگھ پر الزام تھا کہ وہ امیدواروں سے پیسے لے کر پرچہ لیک کرانے کا دعویٰ کر رہا تھا، جبکہ سوشل میڈیا پر کئی آڈیوز بھی سامنے آئیں جن میں بھرتی کے عوض 15 لاکھ روپے طلب کیے گئے تھے۔

اتوار کو مبینہ پیپر لیک کے بعد ایک پروفیسر نے دعویٰ کیا کہ ہریدوار کے ایک شخص نے انہیں پیپر واٹس ایپ پر بھیجا اور حل کرنے کو کہا، جس کے بعد انہوں نے یہ پیپر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کیا۔ پولیس انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ پیپر لیک ہوا ہے، تاہم کسی منظم گینگ کی شمولیت ابھی تک ثابت نہیں ہوئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کی شناخت کر لی گئی ہے اور کارروائی جاری ہے۔

احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر دہرادون پولیس نے شہر کے اہم علاقوں میں دفعہ 163 نافذ کر دی ہے، جس کے تحت کسی بھی جگہ ہجوم جمع کرنے، جلوس نکالنے، لاؤڈ اسپیکر استعمال کرنے یا اسلحہ لے کر چلنے پر پابندی ہوگی۔ متاثرہ علاقوں میں گھنٹہ گھر، نیش ویلا روڈ، راج پور روڈ، ای سی روڈ، چکراتا روڈ، گاندھی پارک، سکریٹریٹ روڈ، نیو کینٹ روڈ، سہستردھارا روڈ، سہارنپور روڈ، پریڈ گراؤنڈ، سروے چوک اور ڈی اے وی کالج روڈ شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button