بین ریاستی خبریںجرائم و حادثات

15 دن کی بچی کے ساتھ خوفناک ظلم، منہ میں پتھر اور ہونٹ فیویکوک سے چپکائے گئے

منہ میں پتھر اور پیر جلا دینے کا واقعہ

بھیلواڑہ/راجستھان :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)راجستھان کے بھیلواڑہ ضلع کے بیجولیا علاقے میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں صرف 15 دن کی ایک نومولود بچی جنگل میں پڑی ملی۔ بچی کے منہ میں زبردستی پتھر بھرا گیا تھا اور اس کے ہونٹ فیویکوک سے چپکا دیے گئے تھے، جبکہ ایک پیر گرم پتھروں سے جلا دیا گیا تھا۔ اس ظلم کے نتیجے میں بچی کے پورے جسم میں شدید انفیکشن پھیل چکا ہے اور اس کی حالت انتہائی نازک بتائی جا رہی ہے۔

یہ واقعہ ماندلگڑھ کے بیزولیا کے قریب سیتا کا کنڈ مندر کے قریب سڑک کنارے ایک جنگلی علاقے میں پیش آیا۔ ایک بوڑھا چرواہا، ہیرا لال تیلِی، بکریاں چرانے کے دوران بچے کی سسکی سن کر وہاں پہنچا۔ ابتدائی طور پر آواز بند ہو گئی تھی لیکن چند لمحوں بعد دوبارہ سسکی سنائی دی۔ ہیرا لال نے فوری طور پر مقامی لوگوں کو اطلاع دی، جس پر ہیمراج گجر، بابو پنڈت اور ویرندر سنگھ کے ہمراہ تقریباً 200 میٹر دور سے پتھروں کا ڈھیر ہٹایا گیا۔

جب بچے کا منہ صاف کیا گیا تو پتھر نکالا گیا اور ہونٹ فیویکوک سے چپکے ہوئے تھے۔ واقعہ کی جگہ سے فیویکوک کا ریپر بھی ملا۔ بچی کو فوری طور پر قریبی ڈھابے پر لے جایا گیا اور پولیس کو اطلاع دی گئی۔ پولیس نے بچی کو ابتدائی علاج کے بعد بھیلواڑہ ہائر سینٹر ریفر کیا۔

بھیلواڑہ ضلع اسپتال کی بچوں کی ماہر ڈاکٹر انڈیا سنگھ کے مطابق بچی کا وزن صرف تین کلوگرام ہے اور پورے جسم میں انفیکشن پھیل چکا ہے۔ اس کی حالت نازک ہے اور فی الحال غیر مستحکم ہے۔

ماندلگڑھ کے ایس آئی شنکر سنگھ نے بتایا کہ پولیس گزشتہ 15 دن میں ماندلگڑھ اور بیزولیا اسپتالوں میں ہونے والی تمام ڈلیوری ریکارڈز کا جائزہ لے رہی ہے۔ اس کے علاوہ واقعہ کی جگہ کے قریبی سی سی ٹی وی فوٹیجز اور موبائل تفصیلات بھی حاصل کی جا رہی ہیں تاکہ ملزم کی شناخت کی جا سکے۔

یہ واقعہ پورے بھیلواڑہ میں تشویش اور غم و غصے کا باعث بن گیا ہے۔ شہری اس سوال پر غور کر رہے ہیں کہ اتنی معصومیت پر یہ ظلم کس نے اور کیوں کیا۔ پولیس نے فوری کارروائی کا اعلان کیا ہے اور تمام شواہد جمع کر لیے ہیں۔ ضلع انتظامیہ نے معاملے کی رپورٹ کلکٹر کے حوالے کر دی ہے۔

ڈاکٹرز بچے کو محفوظ رکھنے اور انفیکشن کو کنٹرول کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ یہ واقعہ بچوں کے تحفظ اور سماجی ذمہ داری پر ایک بڑا سوال چھوڑ گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button