وارانسی میں سڑک توسیع کے نام پر بلڈوزر ایکشن
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اتر پردیش کے وارانسی میں سندہا تا کچہری روڈ کی توسیع کے دوران پولیس لائن چوراہے سے کچہری تک 13 مکانوں کو بلڈوزر چلا کر گرایا گیا۔ انہی مکانات میں ہندوستانی ہاکی ٹیم کے سابق کپتان، اولمپین اور پدم شری ایوارڈ یافتہ محمد شاہد کا آبائی گھر بھی شامل تھا۔
اہل خانہ کے مطابق انہوں نے انتظامیہ سے بار بار گزارش کی کہ شادی قریب ہے اور ان کے پاس دوسرا مکان نہیں، لیکن ان کی اپیل پر کوئی دھیان نہیں دیا گیا۔ ایک ویڈیو میں ایک بزرگ پولیس افسر سے گڑگڑا کر کہتے نظر آتے ہیں: ’’مشرا جی، آپ کے پیر پکڑ رہا ہوں، بس آج کی مہلت دے دیجیے، کل سب کچھ ہٹا لیں گے‘‘۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا اور اکھلیش یادو نے بھی اسے شیئر کیا۔
شاہد کی بھابھی نازنین نے الزام لگایا کہ انہوں نے کوئی معاوضہ نہیں لیا ہے اور ان کے پاس متبادل رہائش نہیں۔ ان کے کزن مشتاق نے بتایا کہ شادی کی تیاریاں چل رہی ہیں لیکن مکان توڑ کر انہیں بے گھر کر دیا گیا۔ انہوں نے اسے ’’انتظامی غنڈہ گردی‘‘ قرار دیا اور کہا کہ مسلم اکثریتی علاقے میں جان بوجھ کر سڑک کو 21 کے بجائے 25 میٹر توسیع کی جارہی ہے۔
وارانسی کے اے ڈی ایم سٹی آلوک ورما نے دعویٰ کیا کہ متاثرہ مکان میں رہائش پذیر 9 افراد میں سے 6 نے معاوضہ وصول کر لیا تھا۔ تین افراد کے پاس اسٹے آرڈر تھا، اس لیے ان کے حصے کو چھوڑ دیا گیا۔ ان کے مطابق خاندان نے شادی کا حوالہ دے کر وقت مانگا تھا لیکن معاوضہ لینے کے لیے ضروری دستاویزات فراہم نہیں کیے۔
محکمہ تعمیرات عامہ کے مطابق سندہا سے پولیس لائن تک سڑک کی توسیع کا کام مکمل کیا جا چکا ہے اور اب کچہری تک 59 مکانوں کو تین مرحلوں میں منہدم کیا گیا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کارروائی قانون کے مطابق ہے، تاہم مقامی افراد اور سماجی کارکنوں نے اسے عوام پر ظلم قرار دیا ہے اور یوپی حکومت کے بلڈوزر ایکشن کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
जुल्म करनेवाले न भूलें नाइंसाफ़ी की भी एक उम्र होती है। pic.twitter.com/aY18bJe8DU
— Akhilesh Yadav (@yadavakhilesh) September 28, 2025



