بین الاقوامی خبریںسرورق

حسن نصر اللہ کی پہلی برسی پر اسرائیل کے انکشافات,وہ بڑی غلطی جس نے ان کی جان لی

اسرائیل ان کے خلاف ایک طویل المدتی قتل مہم چلا رہا تھا۔

یروشلم :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اسرائیلی فوج نے حسن نصر اللہ کی پہلی برسی پر ایک اہم انکشاف کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حزب اللہ کے سربراہ اپنی موت سے بے خبر تھے۔ اسرائیل کی ملٹری انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کی رپورٹ کے مطابق حسن نصر اللہ قتل ہونے سے قبل اپنی خفیہ پناہ گاہ میں حزب اللہ کی فوجی صلاحیتوں کو دوبارہ منظم کرنے میں مصروف تھے، جبکہ اسرائیل ان کے خلاف ایک طویل المدتی قتل مہم چلا رہا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حسن نصر اللہ نے پیجر حملے کے بعد بھی اپنی پناہ گاہ میں رہتے ہوئے اسرائیل کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی جاری رکھی۔ وہ حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے اور رہنماؤں کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی حملوں کے باوجود تنظیم کو دوبارہ فعال بنانے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن اسرائیلی انٹیلی جنس کی سخت نگرانی نے ان کی کوششوں کو ناکام بنا دیا۔

اسرائیلی فوج نے اپنی کارروائی کے لیے سالوں پر محیط درست انٹیلی جنس معلومات پر انحصار کیا، جس نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے میں حسن نصر اللہ کی پناہ گاہ کا مقام معلوم کرنے میں مدد دی۔ رپورٹ کے مطابق یہ پناہ گاہ ایرانی ٹیکنالوجی سے تیار کی گئی تھی اور حزب اللہ کے اندرونی حلقوں میں مکمل رازداری میں رکھی گئی تھی۔

27 ستمبر 2024 کو اسرائیلی فضائیہ نے ایک اہم کارروائی میں زیر زمین کمانڈ سینٹر پر 83 بنکر شکن بم گرائے۔ اس حملے میں حسن نصر اللہ اور حزب اللہ کے کئی اعلیٰ رہنما ہلاک ہو گئے۔ اسرائیل کے مطابق یہ کارروائی حزب اللہ کے خلاف ان کی سب سے مشکل اور کامیاب کارروائی تھی، جس سے حزب اللہ کو بھاری نقصان پہنچا۔ اس قتل نے نہ صرف حزب اللہ بلکہ ایران کے لیے بھی بڑا نقصان کیا اور مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن بدل دیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button