یروشلم /استنبول :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اسرائیل کی قومی سلامتی کمیٹی نے پیر کو ایک تاریخی اور متنازع اقدام کرتے ہوئے فلسطینی قیدیوں کو پھانسی دینے کے حق میں بل منظور کر لیا۔ اس قانون کو اسرائیلی سیاسی حلقوں میں "دہشت گردوں کے لیے سزائے موت” کے طور پر جانا جاتا ہے۔ کمیٹی کی یہ منظوری اس وقت آئی ہے جب اسرائیل حماس کے زیر حراست اپنے یرغمالیوں کی رہائی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی تمام مذاکراتی اور فوجی صلاحیتیں بروئے کار لا رہا ہے۔
قومی سلامتی کے وزیر بین گویر نے نیتن یاہو سے قانون کی منظوری کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ بل کسی بھی قسم کی رعایت یا نرمی کے بغیر منظور ہونا چاہیے، تاکہ حماس کے خلاف کارروائی میں مزاحمت ختم ہو۔
واشنگٹن میں نیتن یاہو اور امریکی صدر کے درمیان ملاقات سے دو روز قبل، ہزاروں اسرائیلی تل ابیب میں مظاہرہ کرتے ہوئے غزہ جنگ کے خاتمے اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے معاہدے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ اس دوران یرغمالی قیدیوں کے اہل خانہ نے بھی وزیراعظم پر زور دیا کہ فوری جنگ بندی معاہدہ کیا جائے۔
دوسری جانب، بین گویر نے سخت الفاظ میں کہا کہ حماس کی مکمل شکست کے بغیر کوئی جنگ بندی ناممکن ہے اور وزیراعظم کو اس حوالے سے محتاط رہنا چاہیے۔
سات اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے میں اسرائیل کے 1,219 افراد ہلاک اور 251 یرغمالی بنائے گئے تھے، جن میں سے 47 اب بھی قید ہیں اور ان میں سے 25 ہلاک ہو چکے ہیں۔ غزہ میں جاری اسرائیلی حملوں میں اب تک 65,926 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔یہ بل اسرائیل کے سیاسی منظرنامے میں ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، جو نہ صرف قانونی بلکہ انسانی حقوق اور عالمی تعلقات میں سنگین اثرات مرتب کر سکتا ہے۔



