الشفاء اسپتال پر صہیونی حملے، اسپتال نظام تباہی کے دہانے پر، مریضوں کے لیے دہشت کا منظر
الشفاء اسپتال کے اردگرد اسرائیلی محاصرہ، انسانی حقوق کی خلاف ورزی
غزہ (اردودنیا.اِن/ایجنسیز) — غزہ شہر میں قابض اسرائیلی افواج نے الشفاء میڈیکل کمپلیکس کے اطراف رات کے وقت لگاتار حملے شروع کر رکھے ہیں۔ صہیونی فوج آتشیں بمباری اور بارودی گاڑیوں کے دھماکے استعمال کر کے اسپتال کے اردگرد موت کا راج قائم کر رہی ہے، جس سے مریض اور ان کے تیماردار شدید خوف و ہراس میں مبتلا ہیں۔ انہی حملوں کے ساتھ قابض اسرائیل کے ٹینک شمالی اور مشرقی سمتوں سے کمپلیکس کے قریب پہنچ رہے ہیں، جس کے باعث درجنوں مریض علاج کی ضرورت کے باوجود فرار پر مجبور ہوئے۔
ان حملوں نے اسپتال تک رسائی کو نہایت خطرناک بنا دیا ہے۔ بہت سی طبی کارروائیاں عملے کی کمی اور دواؤں و ضروری سامان کی قلت کے باعث روک دی گئی ہیں۔ ڈاکٹر انتہائی پیچیدہ آپریشنز ایسے حالات میں کرنے پر مجبور ہیں جہاں مکمل بے ہوشی تک میسر نہیں۔
یہ دلخراش مناظر ایک بار پھر اس حقیقت کو تازہ کرتے ہیں کہ قابض اسرائیل نے رفح سے شمالی بیت حانون تک اسپتالوں کو محاصرے میں لے کر بارہا اجتماعی قتل عام کی وارداتیں کیں۔ آج غزہ کے باسی انہی جرائم کے نئے ابواب دیکھ رہے ہیں۔
الشفاء میڈیکل کمپلیکس کے میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر حسن کا کہنا ہے کہ عملے کے کئی ارکان خوف اور شدید اضطراب کے باوجود ڈٹے ہوئے ہیں۔ ان کے ذہنوں میں وہ لمحے تازہ ہیں جب قابض اسرائیل نے اسی کمپلیکس کا محاصرہ کر کے ڈاکٹروں اور طبی عملے کو قتل اور گرفتار کیا تھا۔انہوں نے مرکز برائے حقوق انسانی کو بتایا کہ زندگی بچانے والی ادویات اور طبی سامان فوری طور پر فراہم کرنا اشد ضروری ہے۔ ڈاکٹر شاعر کے مطابق کم از کم 100 مریض اس وقت نہایت کٹھن حالات میں علاج کروا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ 18 مارچ سنہ 2024ء کو قابض اسرائیل نے الشفاء کمپلیکس پر شدید بمباری کر کے علاقے کے مکینوں کو جبری طور پر نکال دیا تھا، جس کے نتیجے میں سینکڑوں شہری شہید ہوئے اور عمارتیں و طبی آلات ملبے کا ڈھیر بن گئے۔
قابض اسرائیل کا مقصد غزہ کی شہری زندگی کو مفلوج کر دینا ہے۔ وزارت صحت کے مطابق حالیہ حملوں نے مزید 4 اسپتالوں کو بند کر دیا، جس کے بعد 20 اسپتال یا تو مکمل تباہ یا خالی کرا لیے گئے ہیں۔ صرف 7 اسپتال باقی رہ گئے ہیں جو اپنی معمولی صلاحیت کے ساتھ آخری سانس لے رہے ہیں۔
مرکز برائے حقوق انسانی نے خبردار کیا ہے کہ قابض اسرائیل دانستہ طور پر پورے طبی نظام کو نیست و نابود کرنا چاہتا ہے تاکہ مہلک امراض میں مبتلا مریض موت کے منہ میں چلے جائیں اور لاکھوں شہری بنیادی علاج سے محروم ہو کر جبراً جنوبی غزہ کی طرف دھکیلے جائیں۔
غزہ میں باقی رہ جانے والے اسپتال، بشمول الشفاء میڈیکل کمپلیکس، مستشفى اصدقاء المریض، مجمع الصحابہ، اسپتال اہلی معمدانی، اسپتال الوفاء، اسپتال الحلو اور السرایا اسپتال شدید خطرے سے دوچار ہیں اور کسی بھی وقت مکمل طور پر بند ہو سکتے ہیں۔ایندھن کے خاتمے اور ضروری سامان کی کمیابی نے پہلے ہی ان اسپتالوں کے کئی اہم شعبے مفلوج کر دیے ہیں۔
بنیادی ادویات میں 52 فیصد اور ایک بار استعمال ہونے والے آلات میں 68 فیصد کمی واقع ہو گئی ہے۔ وزارت صحت کے مطابق خون کے بینکوں میں بھی شدید بحران ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے تصدیق کی ہے کہ قابض اسرائیل کی مسلسل بمباری نے غزہ کے 94 فیصد اسپتال تباہ کر دیے ہیں۔ جو اسپتال جزوی طور پر کام کر رہے ہیں وہ بھی صہیونی حملوں سے بری طرح متاثر ہو کر صرف چند خدمات ہی فراہم کر پا رہے ہیں۔گزشتہ ماہ کے دوران 16 طبی مراکز اور 11 بنیادی صحت مراکز کو بند کرنا پڑا۔ موجودہ اسپتال روزانہ اوسطاً 80 اجتماعی زخمیوں کے کیس وصول کر رہے ہیں۔
انسانی المیہ مزید گہرا اس وقت ہوا جب ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے اعلان کیا کہ قابض اسرائیل کے محاصرے کے بعد ان کے دفاتر اور کلینکس بند کر دیے گئے ہیں اور وہ غزہ چھوڑ رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہزاروں مریض اپنی معمولی سی امید بھی کھو بیٹھے ہیں۔
تنظیم کے مطابق صرف گذشتہ ہفتے انہوں نے 3640 طبی مشورے دیے اور 1655 مریضوں کا علاج کیا، جن میں غذائی قلت کے شکار بچے، شدید زخمی، جھلسے ہوئے افراد اور حاملہ خواتین شامل تھے۔
مرکز برائے حقوق انسانی نے دو ٹوک کہا ہے کہ قابض اسرائیل کے ان اقدامات کو بین الاقوامی قانون کے مطابق جنگی جرائم کہا جائے گا۔ مریضوں کو علاج سے محروم کرنا، اسپتالوں کو نشانہ بنانا، شہریوں سے خوراک و پانی چھیننا اور پورے معاشرے کو اجتماعی سزا دینا واضح طور پر جنیوا کنونشنز کی خلاف ورزی ہے۔
یہ اقدامات آرٹیکل 6 کے تحت کھلی نسل کشی کے زمرے میں آتے ہیں، کیونکہ شہریوں کو دانستہ اور منظم انداز میں صفحہ ہستی سے مٹانے کی پالیسی پر عمل ہو رہا ہے۔
مرکز نے زور دیا کہ عالمی برادری اگر واقعی انسانی زندگیوں کو بچانا چاہتی ہے تو فوری اور مستقل جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا روک ٹوک ترسیل، ایندھن و ادویات کی فراہمی اور اسپتالوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ بصورت دیگر غزہ میں انسانی المیہ اس قدر سنگین ہو جائے گا جس کا خمیازہ لاکھوں شہری بھگتیں گے۔اسپتالوں اور طبی عملے کو عالمی تحفظ فراہم کیا جائے، زخمیوں اور مریضوں کے لیے محفوظ راہداری کھولی جائے اور ایک آزادانہ بین الاقوامی تحقیقات کے ذریعے ان جرائم کو نسل کشی کے ناقابل تردید شواہد کے طور پر پیش کیا جائے۔



