بین الاقوامی خبریںسرورق

قابض اسرائیلی فوج نے مسجد ابراہیمی تین دن کے لیے بند کر دی

عالمی برادری اور یونیسکو سے فوری مداخلت کا مطالبہ۔

غزہ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)قابض اسرائیلی حکام نے مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل میں واقع تاریخی مسجد ابراہیمی کو تین دن کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا ہے۔ فلسطینی وزارتِ اوقاف و مذہبی امور نے تصدیق کی کہ منگل، بدھ اور جمعرات کو مسجد کے تمام حصے، راہداریاں، صحن اور داخلی مقامات عام مصلیان کے لیے بند رہیں گے۔

یہ اقدام نام نہاد یہودی مذہبی تہواروں کے بہانے کیا گیا ہے۔ وزارت نے بیان میں اس فیصلے کو آزادیٔ عبادت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری اور یونیسکو سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔

وزارتِ اوقاف نے خبردار کیا کہ قابض اسرائیل کی جانب سے مسجد کے خلاف اقدامات مسلسل بڑھ رہے ہیں، جن میں اذان پر پابندی,داخلی راستوں پر الیکٹرانک گیٹ نصب کر کے نمازیوں کو تنگ کرنا,بار بار تلاشی دینا,مسجد کے عملے کو فرائض سے روکنا,یہ بندش ایسے وقت میں کی گئی ہے جب گزشتہ ہفتے بھی مسجد کو یہودی نئے سال کے موقع پر ایک دن کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔ اب یہ پابندی "یوم الغفران” کے ایک دن قبل نافذ کی گئی ہے، جو یکم اکتوبر کو منایا جائے گا۔

یاد رہے کہ مسجد ابراہیمی پرانے شہر کے اس علاقے میں واقع ہے جو مکمل طور پر قابض اسرائیل کے تسلط میں ہے۔ یہاں تقریباً 400 صہیونی آباد کار رہتے ہیں جن کی حفاظت کے لیے 1500 فوجی تعینات ہیں۔

سنہ 1994 میں ایک یہودی آباد کار نے فجر کی نماز کے دوران مسجد ابراہیمی میں فائرنگ کر کے 29 فلسطینی نمازیوں کو شہید کر دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد قابض اسرائیل نے مسجد کو زبردستی تقسیم کر دیا، جس میں 63 فیصد حصہ یہودیوں اور صرف 37 فیصد مسلمانوں کے لیے مختص کیا گیا۔ اذان کی جگہ بھی یہودی حصے میں شامل کر دی گئی۔

قابض اسرائیل کی ترتیب کے مطابق مسجد مسلمانوں کے لیے سال بھر میں دس دن مکمل طور پر بند رکھی جاتی ہے، جو یہودی تہواروں کے نام پر ہوتے ہیں۔ اسی طرح یہودیوں کے لیے بھی دس دن بند رہتی ہے جو اسلامی ایام سے مطابقت رکھتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button