بین الاقوامی خبریں

خرطوم: سوڈانی خاندان کے 10 افراد "کالا پانی” کے باعث مکمل نابینا

"ہم نے قرآن کریم حفظ کیا ہے، اور اس آزمائش نے ہمیں اللہ سے جوڑ دیا۔ ہم تقدیر پر راضی ہیں۔"

خرطوم (اردو دنیا/ایجنسیز) — سوڈان کی مشرقی ریاست القضارف کے گاؤں 7 میں ایک ہی خاندان کے 10 افراد "کالا پانی” یعنی موروثی گلوکوما کے باعث مکمل طور پر نابینا ہو چکے ہیں۔ خاندان کے دیگر افراد بھی کمزور بصارت کے باعث نابینا ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

یہ گاؤں دارالحکومت خرطوم سے تقریباً 251 کلومیٹر مشرق میں واقع ہے۔ خاندان کے کل افراد کی تعداد 31 ہے، جو انتہائی غربت، قرضوں اور کٹھن حالات کے باوجود زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان کے مطابق سرکاری سطح پر صرف وعدے ملے، عملی امداد نہیں۔

خاندان کے ایک فرد سیبویہ حسب اللہ آدم نے بتایا کہ ان کے والد کو بچپن میں ہی نظر کی کمزوری ہوئی تھی، جو بڑھتے بڑھتے مکمل نابینائی میں بدل گئی۔ بعد میں یہ بیماری ان کے بیٹوں، بہنوں اور سب سے چھوٹے بھائی ہشام کو بھی لگ گئی۔ کئی آپریشنوں اور علاج کے باوجود بینائی واپس نہ آ سکی۔

اب تک خاندان کے 10 افراد مکمل نابینا ہیں، جبکہ باقی بچے سات سے آٹھ سال کی عمر میں بتدریج نظر کھونا شروع کرتے ہیں۔ اس آزمائش کے باوجود خاندان ہمت نہیں ہارا۔ سیبویہ اور ان کے بھائی لکڑی کے بستر تیار کر کے روزگار کماتے ہیں۔ ہشام نے نفسیاتی صدمے کے باوجود تعلیم جاری رکھی۔

سیبویہ کے مطابق:

"ہم نے قرآن کریم حفظ کیا ہے، اور اس آزمائش نے ہمیں اللہ سے جوڑ دیا۔ ہم تقدیر پر راضی ہیں۔”

خاندان کا کہنا ہے کہ وہ قرضوں کے سہارے زندگی گزار رہے ہیں، علاج کے اخراجات پورے نہیں کر پا رہے اور اب بھی حکومت سے عملی مدد کے منتظر ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button