آر ایس ایس کے لیے ڈاک ٹکٹ اور سکہ جاری کرنا آزادی کی بے حرمتی — وی ڈی ستیسن
"آر ایس ایس کی تعریف و توصیف کرنا تاریخ کو مٹانا ہے، اور ہندوستانی عوام اس بے حرمتی کو قبول نہیں کریں گے" — وی ڈی ستیسن
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)وزیر اعظم نریندر مودی نے آر ایس ایس کے 100 سال مکمل ہونے کے موقع پر ایک خصوصی ڈاک ٹکٹ اور 100 روپے کا سکہ جاری کیا، جس پر سیاسی حلقوں میں شدید تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں نے اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے اسے تحریک آزادی کی بے حرمتی قرار دیا ہے۔ کیرالہ اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس لیڈر وی ڈی ستیسن نے اس اقدام کو تاریخ کے ساتھ دھوکہ قرار دیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا: "شرمناک! وزیر اعظم کے ذریعہ آر ایس ایس کے لیے ڈاک ٹکٹ اور سکہ جاری کرنا ہماری تحریک آزادی کی بے حرمتی ہے۔” انہوں نے مزید کہا: "آر ایس ایس نے کبھی آزادی کی جنگ میں حصہ نہیں لیا، بلکہ اس نے دھوکہ دیا۔ ان کی تعریف و توصیف کرنا تاریخ کو بدلنا ہے، اور ہندوستانی عوام اس بے حرمتی کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔”
کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پینارائی وجین نے بھی وزیر اعظم مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آر ایس ایس کے تعاون کا حوالہ دے کر خصوصی ڈاک ٹکٹ اور سکہ جاری کرنا آئین کی بے حرمتی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے الزام لگایا کہ آر ایس ایس تخریبی نظریات کو فروغ دیتا ہے اور آزادی کی جنگ میں حصہ نہیں لیا۔ وزیر اعلیٰ وجین نے ایک تقریر میں آر ایس ایس اور اسرائیلی یہودیوں کے درمیان موازنہ کرتے ہوئے اسے "یہودیوں کا جڑواں بھائی” قرار دیا۔ انہوں نے ڈونالڈ ٹرمپ کے بیانات پر وزیر اعظم کی خاموشی پر سوال اٹھایا اور کہا کہ مودی ٹرمپ کے مخلص خادم ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ہندوستانی شہریوں کو ہتھکڑی لگا کر وطن واپس بھیجا، ویزا فیس بڑھائی، اور ہندوستان پر ٹیرفز عائد کیے، لیکن مودی نے اس پر کبھی کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ یہ معاملہ سیاسی بحث کا محور بن چکا ہے اور آنے والے دنوں میں اس پر پارلیمنٹ میں بھی بحث متوقع ہے، کیونکہ یہ اقدام ملک میں آزادی کی تاریخ اور موجودہ سیاسی ماحول میں ایک حساس مسئلہ بن چکا ہے۔a



