سونم وانگچک کی رہائی کی عرضی پر سپریم کورٹ نے مرکز کو نوٹس جاری کیا
اہلیہ کی 8 اہم مطالبات
نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) سپریم کورٹ نے سونم وانگچک کی حراست کے خلاف دائر عرضی پر مرکز اور لداخ کے مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کو نوٹس جاری کیا ہے۔ یہ معاملہ آئینی حقوق اور اظہار رائے کے دائرہ کار کے حوالے سے ایک سنگین قانونی اہمیت کا حامل ہے۔
سونم وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی انگمو نے درخواست میں مؤقف اپنایا کہ گرفتاری غیر قانونی اور آئین کے آرٹیکل 22(5) کی خلاف ورزی ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ وانگچک کے پاکستان-چین تعلقات کے حوالے سے مبینہ پروپیگنڈے کے ذریعے گاندھیائی تحریک کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اور ان کے خلاف ایک "جھوٹا اور خطرناک بیانیہ” عام کیا جا رہا ہے تاکہ ان کی تحریک کو غیر حقیقی سیاسی تعلقات سے جوڑ کر بدنام کیا جا سکے۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ سونم وانگچک ہمیشہ قومی اتحاد کو مضبوط بنانے اور ہندوستانی فوج کی مدد کے لیے اعلیٰ پوزیشن پر جدید ٹیکنالوجیز کی تیاری میں سرگرم رہے ہیں۔ گرفتاری کا حکم نہ ملنے اور اس کی وجوہات نہ بتائے جانے کو آئینی تحفظات کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔
اہلیہ کی 8 اہم مطالبات:
-
ہیبیئس کارپس کے اجرا کے ذریعے سونم وانگچک کو فوری طور پر سپریم کورٹ کے سامنے پیش کیا جائے۔
-
اہلیہ کو شوہر سے فون اور ذاتی ملاقات کی اجازت دی جائے۔
-
سونم وانگچک کو ان کی ادویات، ملبوسات، خوراک اور دیگر ضروریات فراہم کی جائیں۔
-
گرفتاری کے حکم اور اس سے متعلق تمام دستاویزات عدالت میں پیش کیے جائیں۔
-
گرفتاری کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا جائے۔
-
سونم وانگچک کی فوری رہائی کا حکم صادر کیا جائے۔
-
فوری طبی معائنہ کر کے عدالت میں رپورٹ پیش کی جائے۔
-
ہمالین انسٹیٹیوٹ آف آلٹرنیٹوز لداخ اور اس سے وابستہ طلبہ و اراکین کے ساتھ ہراسانی کو فوری طور پر روکا جائے۔
ادھر، لداخ انتظامیہ نے الزام عائد کیا ہے کہ سونم وانگچک نے اپنی حالیہ تقاریر اور ویڈیوز میں اشتعال انگیز بیانات دیے ہیں جن میں نیپال، سری لنکا اور بنگلہ دیش کا ذکر شامل ہے۔ انتظامیہ کے مطابق، ان بیانات کا مقصد نوجوانوں کو پُرامن طریقوں کے برخلاف اکسانا اور ایک ویڈیو میں "عرب بہار” جیسی تحریکوں اور خودسوزی کا ذکر شامل ہے، جس سے نوجوانوں میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔
سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت اور لداخ کے مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کی انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ سونم وانگچک کی مبینہ غیر قانونی حراست کے خلاف دائر درخواست پر تفصیلی جواب پیش کریں۔ عدالت نے یہ حکم بھی صادر کیا کہ حراست سے متعلق تمام دستاویزات اور گرفتاری کے حکم کی کاپی درخواست گزار، یعنی وانگچک کی اہلیہ کو فراہم کی جائیں۔
سماعت کے دوران عدالت نے مزید ہدایت کی کہ سونم وانگچک کو جیل میں مناسب اور فوری طبی امداد فراہم کی جائے۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے کی اگلی سماعت 14 اکتوبر (منگل) کو مقرر کر دی ہے۔
یاد رہے کہ سونم وانگچک کو 26 ستمبر کو قومی سلامتی ایکٹ کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔ اس سے دو دن قبل، ریاست کا درجہ دینے اور لداخ کو مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کے چھٹے شیڈول میں شامل کرنے کے مطالبات کے احتجاج کے دوران چار افراد ہلاک اور 90 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ اس وقت وانگچک راجستھان کی جودھ پور جیل میں قید ہیں۔
سپریم کورٹ کا یہ نوٹس ایک آئینی سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے، جس سے اظہار رائے، قانونی تحفظات اور مرکز و ریاستی اختیارات کے درمیان توازن قائم کرنے میں اہم کردار ادا ہوگا۔



