بین الاقوامی خبریں

"میں اس امن کا پابند ہوں” — نیتن یاہو کا ٹرمپ کے سامنے اسرائیلی پارلیمنٹ میں خطاب

"آج بندوقیں خاموش ہو گئیں، مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل روشن ہو گیا"، غزہ کی تعمیرِ نو اور حماس کے غیر مسلح کیے جانے کا عزم-امریکی صدر

تل ابیب:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) —اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے پیر کے روز پارلیمنٹ (کنیسٹ) میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں تاریخی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ "اس امن کے پابند ہیں” جو اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والے غزہ امن معاہدے کے ذریعے حاصل ہوا ہے۔

نیتن یاہو نے اپنی تقریر میں صدر ٹرمپ کو "اسرائیل کا سب سے بڑا دوست” قرار دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے غزہ معاہدے کے پہلے مرحلے کی کامیاب وساطت میں کلیدی کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں تمام زندہ اسرائیلی قیدیوں کی واپسی ممکن ہوئی۔

انھوں نے کہا، "ڈونلڈ ٹرمپ وہ سب سے عظیم دوست ہیں جو اسرائیل کو کبھی وائٹ ہاؤس میں ملا۔ کسی بھی امریکی صدر نے اسرائیل کے لیے اتنا کچھ نہیں کیا جتنا انھوں نے کیا ہے۔”

وزیرِ اعظم نے اسرائیلی فوج کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ "تل ابیب نے حماس کے خلاف شاندار فتوحات حاصل کی ہیں” اور اسرائیل اب خطے کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ نئے امن معاہدوں کے لیے تیار ہے۔

انھوں نے صدر ٹرمپ سے مخاطب ہو کر کہا،

"آپ کی قیادت میں ہم خطے کے عرب ممالک کے ساتھ، بلکہ خطے سے باہر مسلم ممالک کے ساتھ بھی نئے امن معاہدے کر سکتے ہیں۔ اسرائیل کے عوام سے زیادہ کوئی امن کا خواہش مند نہیں۔”


غزہ قیدیوں کی واپسی اور جنگ بندی کا نفاذ

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل نے اعلان کیا کہ اس نے غزہ کی پٹی سے اپنے تمام 20 زندہ قیدی واپس حاصل کر لیے ہیں، جبکہ 28 قیدیوں کی نعشوں کی حوالگی کا عمل باقی ہے۔ یہ اقدام 10 اکتوبر سے نافذ جنگ بندی معاہدے کا حصہ ہے۔

گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ معاہدے کے پہلے مرحلے پر اتفاق ہو چکا ہے۔ یہ معاہدہ شرم الشیخ میں قطر، مصر اور ترکی کی شرکت سے ہونے والے غیر بالواسطہ مذاکرات کے نتیجے میں طے پایا، جن کی نگرانی امریکہ کر رہا تھا۔


ٹرمپ کا خطاب: "آج بندوقیں خاموش ہو گئیں”

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کنیسٹ سے اپنے خطاب میں کہا،

"آج بندوقیں خاموش ہو گئیں اور مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل روشن ہو گا۔”

ٹرمپ نے اس جنگ بندی کو "نئے مشرقِ وسطیٰ کی تاریخی صبحِ نو” قرار دیا اور کہا کہ وہ غزہ کی تعمیرِ نو میں شریک رہیں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ کسی جنگ کا اختتام نہیں بلکہ "امن کے نئے دور” کا آغاز ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ حماس کا مکمل غیر مسلح کیا جانا یقینی بنایا جائے گا تاکہ اسرائیل کا تحفظ برقرار رہے۔ اس موقع پر دو اراکینِ پارلیمنٹ کو مداخلت کرنے پر ایوان سے نکال دیا گیا۔


ایران، لبنان اور خطے کی نئی صورتحال

صدر ٹرمپ نے ایران پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ مشترکہ کارروائی میں "ایرانی جوہری دہشت گردی” ختم کر دی گئی ہے۔انھوں نے بتایا کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر 14 بم گرائے گئے جن کے نتیجے میں ایران کو خطرناک ہتھیار حاصل کرنے سے روکا گیا۔

لبنان کے بارے میں ٹرمپ نے کہا کہ حزب اللہ کے خاتمے کے بعد وہاں ریاستی ادارے مضبوط ہو رہے ہیں۔ انھوں نے لبنانی صدر کی پالیسی کی حمایت کی کہ "ہتھیار صرف ریاست کے ہاتھ میں ہونے چاہئیں”۔


"نسلوں بعد لوگ آج کے دن کو یاد رکھیں گے”

کنیسٹ کے اجلاس میں صدر ٹرمپ کے خطاب کے دوران تمام ارکان نے کھڑے ہو کر ان کا استقبال کیا۔
صدر اسحاق ہرزوگ اور وزیرِ اعظم نیتن یاہو بھی موجود تھے۔

ٹرمپ نے کہا،

"نسلوں بعد لوگ آج کے دن کو یاد رکھیں گے جب مشرقِ وسطیٰ بدلنا شروع ہوا۔”

انھوں نے کہا کہ غزہ کے عوام کے لیے استحکام، وقار اور ترقی اولین ترجیح ہونی چاہیے تاکہ ان کے بچے بہتر مستقبل حاصل کر سکیں۔
پارلیمنٹ آنے سے قبل انھوں نے اعزازی رجسٹر پر لکھا:

"یہ ایک عظیم دن اور نئی شروعات ہے۔”


غزہ کا مستقبل: بین الاقوامی فورس کا قیام

ٹرمپ نے بتایا کہ غزہ کے مستقبل کا انتظام ایک غیر سیاسی فلسطینی ٹکنوکریٹ کمیٹی کے سپرد کیا جائے گا جو بین الاقوامی عبوری اتھارٹی کے تحت کام کرے گی۔

منصوبے کے تحت:

  • اسرائیل مرحلہ وار اپنی افواج واپس بلائے گا،

  • ایک کثیرالقومی فورس تعینات ہو گی،

  • اور اس فورس کا کمانڈ سینٹر امریکی نگرانی میں اسرائیل میں قائم کیا جائے گا۔

ٹرمپ نے کہا کہ وہ جلد "امن کونسل” کے قیام کا اعلان کریں گے، جو اس منصوبے کی نگرانی کرے گی۔


دو سالہ جنگ کا خونی انجام

غزہ کی پٹی میں دو سالہ جنگ کے دوران 68 ہزار افراد ہلاک ہوئے جن میں نصف سے زیادہ خواتین اور بچے شامل ہیں۔
دوسری جانب 7 اکتوبر 2023 کے حملے میں اسرائیل کے 1219 شہری مارے گئے تھے۔

صدر ٹرمپ نے کہا،

"اب وقت ہے کہ دنیا امن، انصاف اور انسانی بحالی کی طرف بڑھے۔”

متعلقہ خبریں

Back to top button