کفالہ نظام ختم! سعودی عرب کا تاریخی فیصلہ، 25 لاکھ بھارتی مزدوروں کو زبردست فائدہ
Saudi Arabia Ends Kafala System: بھارتی مزدوروں کے لیے آزادی اور نئے مواقع
الریاض:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) سعودی عرب نے اپنی لیبر پالیسی کے تحت ایک تاریخی اعلان کرتے ہوئے 50 سال پرانے کفالہ نظام کو ختم کر دیا ہے۔ یہ وہ نظام تھا جو غیر ملکی مزدوروں کو ان کے آجر (اسپانسر/کفیل) کے مکمل اختیار میں رکھتا تھا۔ اس اعلان کا حصہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ویژن 2030 پروگرام کو قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد معیشت کو جدید بنانا اور انسانی حقوق کے عالمی معیار کو اپنانا ہے۔
کفالہ نظام کیا تھا؟
کفالہ نظام کے تحت کوئی بھی غیر ملکی مزدور اپنے اسپانسر (کفیل) کی اجازت کے بغیر نہ تو نوکری تبدیل کر سکتا تھا، نہ ملک چھوڑ سکتا تھا اور نہ ہی اپنے اقامے کی تجدید کرا سکتا تھا۔ اس سخت قانون نے لاکھوں مزدوروں کو قانونی طور پر غلامی جیسی حالت میں رکھا۔ اسپانسر اگر چاہے تو مزدور کا پاسپورٹ ضبط کر سکتا تھا اور تنخواہ روک سکتا تھا، جبکہ مزدور کے پاس انصاف کا کوئی مؤثر ذریعہ نہیں تھا۔
انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں
یہ نظام نہ صرف سعودی عرب بلکہ کئی خلیجی ممالک میں رائج تھا۔ خواتین گھریلو ملازمین کے لیے حالات مزید بدتر تھے، جنہیں دن میں 12 سے 16 گھنٹے تک بغیر چھٹی یا اضافی تنخواہ کے کام کرنا پڑتا تھا۔ 2022 میں قطر میں فیفا ورلڈ کپ سے پہلے اسی کفالہ نظام کے باعث ہزاروں مزدوروں کی اموات نے عالمی سطح پر انسانی حقوق کی بحث چھیڑ دی تھی۔
نئے نظام میں کیا بدلا ہے؟
اب سعودی عرب میں غیر ملکی مزدور اپنے معاہدے کے اختتام یا نوٹس پیریڈ دینے کے بعد اسپانسر کی اجازت کے بغیر نوکری تبدیل کر سکتے ہیں۔ انہیں ملک سے باہر جانے یا واپس آنے کے لیے اسپانسر کی منظوری درکار نہیں ہوگی۔اس کے علاوہ، ایک ڈیجیٹل سسٹم کے ذریعے ملازمین کے تمام حقوق، اجرتیں اور معاہدے مانیٹر کیے جائیں گے، تاکہ شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔
ویژن 2030 کا مقصد
کفالہ نظام کا خاتمہ شہزادہ محمد بن سلمان کے "ویژن 2030” کا حصہ ہے، جس کے ذریعے سعودی عرب تیل پر انحصار کم کر کے عالمی سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور جدید صنعتوں کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی اداروں نے اس قدم کو سعودی عرب کی مثبت سمت میں پیش رفت قرار دیا ہے۔
بھارتی مزدوروں کو کیسے فائدہ ہوگا؟
سعودی عرب میں تقریباً 25 لاکھ بھارتی مزدور مختلف شعبوں میں کام کرتے ہیں۔ ان کے لیے یہ تبدیلی زندگی بدل دینے والی ثابت ہو سکتی ہے:
-
اب وہ بغیر اسپانسر کی اجازت کے نوکری تبدیل کر سکیں گے۔
-
پاسپورٹ ضبط یا تنخواہ روکنے جیسے مظالم میں کمی آئے گی۔
-
بہتر تنخواہ اور محفوظ ماحول میں کام کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
-
مزدوروں کے حقوق عالمی معیار کے مطابق محفوظ ہوں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ اصلاحات مؤثر طریقے سے نافذ ہو گئیں تو یہ نہ صرف سعودی عرب کی معیشت بلکہ خلیجی ممالک میں مزدوروں کے حقوق کے لیے ایک نیا باب ثابت ہوں گی۔



