سرورققومی خبریں

ایودھیا فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی درخواست مسترد، عدالت نے وکیل محمود پراچہ پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا

جج رانا نے کہا:"بے بنیاد اور غیر سنجیدہ مقدمات عدالت کے وقت اور وسائل کا ضیاع ہیں

نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) دہلی کی ایک ضلعی عدالت نے ایودھیا مقدمے سے متعلق سپریم کورٹ کے 2019 کے تاریخی فیصلے کو "غیر معتبر” قرار دینے کی درخواست قطعی طور پر خارج کر دی ہے۔ یہ درخواست معروف وکیل محمود پراچہ کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جسے عدالت نے نہ صرف مسترد کیا بلکہ پانچ لاکھ روپے کا اضافی جرمانہ بھی عائد کر دیا۔

اس سے قبل اپریل 2025 میں سول عدالت نے اسی معاملے پر محمود پراچہ کی درخواست خارج کرتے ہوئے ایک لاکھ روپے کا جرمانہ لگایا تھا۔ تاہم، پراچہ نے اس فیصلے کے خلاف نظرِ ثانی کی اپیل دائر کی، جس پر ضلع جج دھرمیندر رانا نے حال ہی میں فیصلہ سناتے ہوئے اپیل کو "غیر سنجیدہ اور قانونی عمل کے غلط استعمال” کے مترادف قرار دیا۔

عدالت کے مطابق، محمود پراچہ نے دعویٰ کیا تھا کہ پونے میں ایک عوامی تقریب کے دوران بھارت کے سابق چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڈ نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ ایودھیا مقدمے کا فیصلہ “بھگوان شری رام للا کی دی ہوئی رہنمائی” پر مبنی تھا۔ اسی بنیاد پر پراچہ نے فیصلے کو منسوخ کرنے اور دوبارہ سماعت کا مطالبہ کیا تھا۔

جج رانا نے فیصلے میں کہا:”یہ کہنا کہ سپریم کورٹ کا ایودھیا فیصلہ بھگوان رام لالہ کے الہام پر مبنی تھا، ایک غیر ذمہ دارانہ دعویٰ ہے۔”انہوں نے مزید وضاحت کی کہ:“اللہ سے رہنمائی طلب کرنا یا کسی مذہب میں الہامی مدد لینا کوئی دھوکہ دہی نہیں بلکہ ایمان کا حصہ ہے۔ اسے کسی غلط نیت سے جوڑنا غیر مناسب ہے۔”

عدالت نے یہ بھی کہا کہ محمود پراچہ نہ تو ایودھیا مقدمے کے فریق تھے اور نہ ہی ان کا اس فیصلے سے کوئی براہ راست تعلق تھا، لہٰذا ان کی درخواست قانونی طور پر ناقابلِ سماعت تھی۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ عوامی عہدوں سے سبکدوش ہونے والے اہلکاروں کے خلاف غیر ضروری مقدمے دائر کرنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے، جسے عدالتوں کو روکنا ہوگا تاکہ ایسے افراد کو “پُرامن اور عزت دار ریٹائرمنٹ” مل سکے۔

جج رانا نے کہا:”بے بنیاد اور غیر سنجیدہ مقدمات عدالت کے وقت اور وسائل کا ضیاع ہیں، اس لیے ان پر سخت مالی جرمانہ عائد کیا جانا ضروری ہے۔”

عدالت نے واضح کیا کہ محمود پراچہ نے ایودھیا فیصلے کا مکمل مطالعہ کیے بغیر ہی اسے چیلنج کر دیا، جو ان کی “غفلت اور موضوع کی غلط فہمی” کو ظاہر کرتا ہے۔ جج نے مزید کہا کہ "اہم برہم اسمی” جیسے ہندو فلسفے کے اصول اور قرآن میں دیے گئے رہنمائی کے تصورات کسی بھی صورت میں ایسے دعووں کو جواز فراہم نہیں کرتے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ کی پانچ رکنی آئینی بنچ نے 9 نومبر 2019 کو تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے ایودھیا کی متنازعہ 2.77 ایکڑ زمین بھگوان رام للا کو دینے کا متفقہ فیصلہ سنایا تھا، جبکہ مسلمانوں کے لیے متبادل زمین فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔

عدالت نے اپنے فیصلے کے آخر میں کہا کہ اس نوعیت کے بے بنیاد مقدمات عدالتی عمل کے ساتھ مذاق کے مترادف ہیں، اور ایسے طرزِ عمل پر نمونہ جاتی سزا عائد کرنا انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button