قومی خبریں

ایل آئی سی کے 34 ہزار کروڑ اڈانی گروپ میں کیوں لگائے گئے؟ جے رام رمیش

جے رام رمیش کا مودی حکومت پر اڈانی گروپ کو فائدہ پہنچانے کا الزام

نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے ایک دھماکہ خیز بیان میں مودی حکومت پر سنگین الزام لگایا ہے کہ اس نے لائف انشورنس کارپوریشن (ایل آئی سی) کے تقریباً 34 ہزار کروڑ روپے اڈانی گروپ میں لگانے کا منصوبہ بنایا تاکہ گروپ کے مالی بحران کو کم کیا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ میڈیا رپورٹس اور اندرونی سرکاری دستاویزات کے مطابق مئی 2025 میں وزارتِ مالیات اور نیتی آیوگ کے افسران نے ایک خفیہ منصوبہ تیار کیا، جس کے تحت ایل آئی سی کو اڈانی گروپ میں سرمایہ کاری پر مجبور کیا گیا۔

جے رام رمیش نے سوال اٹھایا کہ آخر کس کے دباؤ پر ایک قومی مالیاتی ادارے کو ایسی کمپنی میں سرمایہ لگانے پر مجبور کیا گیا جو پہلے سے مالیاتی الزامات کے بوجھ تلے دبی ہوئی تھی؟ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا، "کیا یہ ایک اور ’موبائل فون بینکنگ‘ گھوٹالہ نہیں ہے جہاں حکم اوپر سے آتا ہے اور عوامی پیسہ نیچے بہا دیا جاتا ہے؟”

کانگریس رہنما نے یاد دلایا کہ 21 ستمبر 2024 کو جب امریکہ میں گوتم اڈانی اور ان کے سات ساتھیوں پر مالیاتی جرم کے الزامات طے ہوئے تو صرف چار گھنٹوں میں ایل آئی سی کو 7850 کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔ ان کے مطابق، یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عوامی پیسہ سیاسی مقاصد کے لیے کارپوریٹ دوستوں پر قربان کیا جا رہا ہے۔

جے رام رمیش نے مزید الزام لگایا کہ یہ معاملہ صرف مالی بے ضابطگیوں تک محدود نہیں، بلکہ اس میں ای ڈی، سی بی آئی اور انکم ٹیکس جیسے اداروں کے غلط استعمال کی بو بھی آتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان ایجنسیوں کو دیگر نجی کمپنیوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا گیا تاکہ وہ اپنی جائیدادیں اڈانی گروپ کو بیچنے پر مجبور ہو جائیں۔

کانگریس رہنما نے یہ بھی کہا کہ اڈانی گروپ پر مہنگے سولر انرجی ٹھیکے حاصل کرنے کے لیے 2000 کروڑ روپے کی رشوت اسکیم بنانے کا الزام ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اڈانی کے قریبی ساتھی ناصر علی شعبان اہلی اور چانگ چونگ لِنگ جعلی کمپنیوں کے ذریعے مانی لانڈرنگ اور کوئلے کے اوور اِن وائسنگ کے ذریعے بجلی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کرتے رہے، جس کا بوجھ براہِ راست عوام پر پڑا۔

جے رام رمیش نے کہا کہ ہوائی اڈے، بندرگاہیں اور دیگر قومی اثاثے اڈانی گروپ کو دینے کے لیے نجکاری کی پالیسی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ ان کے مطابق، یہاں تک کہ سفارتی سطح پر بھی اڈانی کے مفاد کے لیے دباؤ ڈالا گیا تاکہ اسے پڑوسی ممالک میں ٹھیکے مل سکیں۔

جے رام رمیش نے اس پورے معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کے لیے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) تشکیل دینے کا مطالبہ کیا۔ ابتدائی طور پر انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کو فوری طور پر یہ جانچ کرنی چاہیے کہ ایل آئی سی کو اڈانی گروپ میں سرمایہ کاری کے لیے کس بنیاد پر مجبور کیا گیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button