جرائم و حادثاتسرورق

لکھنؤ میں 12ویں جماعت کی طالبہ کے ساتھ اجتماعی عصمت دری، 4 دن تک یرغمال بنا کر رکھا گیا، دو ملزمان گرفتار

لفٹ دینے کے بہانے اغوا، چائے میں نشہ ملا کر زیادتی

لکھنؤ، 25 اکتوبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں ایک لرزہ خیز واقعہ پیش آیا ہے جہاں 18 سالہ 12ویں جماعت کی طالبہ کو لفٹ دینے کے بہانے اجتماعی عصمت دری کا نشانہ بنایا گیا۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ ایک تیسرے ملزم کی تلاش جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق، 15 اکتوبر کی رات متاثرہ اپنے گھر والوں سے ناراض ہو کر باہر نکلی تھی۔ دن بھر ایک دوست کے ساتھ گھومنے کے بعد جب وہ رات دیر گئے آٹو رکشا سے گھر واپس جا رہی تھی تو خرم نگر کے قریب آٹو ڈرائیور راستہ بھول گیا۔ اسی دوران ایک کار میں سوار دو نوجوان وہاں رکے اور لڑکی کو وکاس نگر چھوڑنے کی پیشکش کی۔

لفٹ دینے کے بہانے اغوا، چائے میں نشہ ملا کر زیادتی

طالبہ نے پہلے انکار کیا، مگر ملزمان نے زبردستی اسے کار میں بٹھا لیا۔ راستے میں اسے چائے پلائی گئی جس میں نشہ آور دوا ملی ہوئی تھی۔ بے ہوشی کی حالت میں اسے ایک فلیٹ میں لے جایا گیا جہاں دو افراد نے اجتماعی عصمت دری کی۔ کچھ دیر بعد ایک تیسرا شخص بھی وہاں آیا اور اس نے بھی زیادتی کی۔

پولیس کے مطابق، متاثرہ کو چار دن تک یرغمال بنا کر رکھا گیا۔ جب اس نے فرار ہونے کی کوشش کی تو اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔

ملزمان نے فون پر دی دھمکیاں، متاثرہ نے گھر والوں کو بتایا 18 اکتوبر کو طالبہ کسی طرح گھر واپس آئی، مگر خوف کے باعث کچھ نہیں بتایا۔ لیکن 19 اکتوبر کو ایک ملزم جنید نے اسے فون اور میسجز پر دھمکیاں دیں۔ اس کے بعد لڑکی نے اپنے اہل خانہ کو سارا واقعہ بتایا۔

22 اکتوبر کو متاثرہ اور اس کے اہل خانہ نے مدیانو پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے انشومن اور جنید نامی دو ملزمان کو 23 اکتوبر کو گرفتار کر لیا۔انسپکٹر شیوانند مشرا کے مطابق، دونوں سے تفتیش جاری ہے جبکہ تیسرے ملزم شیونش کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

پولیس نے بتایا کہ انشومن کے والد وائرلیس ڈیپارٹمنٹ میں ملازم ہیں۔ دونوں گرفتار افراد کے خلاف آئی پی سی کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے جیل بھیج دیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button