بچوں کا اسکرین ٹائم: موبائل، ٹی وی اور آئی پیڈ کے مضر اثرات اور حل
رافعہ عروہ بنگلور
آج کے والدین کے لیے جب بچہ ضد کرتا ہے یا روتا ہے تو فوری حل کے طور پر موبائل یا آئی پیڈ ہاتھ میں تھما دیا جاتا ہے۔ بظاہر یہ ایک آسان اور وقتی سکون دینے والا طریقہ ہے مگر درحقیقت یہ بچوں کی جسمانی، ذہنی اور سماجی زندگی پر گہرے منفی اثرات ڈال رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق تین سے چار سال کی عمر کے وہ بچے جو لکڑی یا پلاسٹک کے کھلونوں کے بجائے آئی پیڈ یا موبائل پر کھیلتے ہیں، ان کی ہڈیوں، عضلات اور دماغی نشوونما سست ہوجاتی ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ اسکرین پر زیادہ وقت گزارنے والے بچے جسمانی طور پر کم فعال رہتے ہیں۔
🧠 ذہنی نشوونما اور سیکھنے کی صلاحیت پر اثرات
تحقیقات کے مطابق جو بچے روزانہ گھنٹوں موبائل یا ٹی وی دیکھتے ہیں، ان کی سیکھنے کی صلاحیت خاص طور پر حساب اور سائنس جیسے مضامین میں کم ہوجاتی ہے۔
اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ایسے بچے اپنے اردگرد کے لوگوں کے ساتھ کم بات چیت کرتے ہیں جس سے ان کی زبان، معاشرتی رویے اور تخلیقی سوچ متاثر ہوتی ہے۔
مزید یہ کہ موبائل یا آئی پیڈ پر تیز روشنی اور حرکت دماغ کو اوور لوڈ کرتی ہے، جس سے توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت گھٹتی جاتی ہے۔
🦴 جسمانی صحت پر خطرناک اثرات
اسکرین کے سامنے زیادہ بیٹھنے سے بچوں کی گردن، کمر اور آنکھوں پر دباؤ پڑتا ہے۔
تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ چھوٹے بچوں میں "ٹیک نیک” (Tech Neck) یعنی جھکی گردن کا مسئلہ عام ہورہا ہے۔
مزید برآں، جسمانی سرگرمیوں کی کمی سے موٹاپا، کمزور ہڈیاں، اور نیند کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
ایسے بچے جلدی تھک جاتے ہیں اور ان کی قوتِ مدافعت بھی کم ہوجاتی ہے۔
🧒 سماجی تعلقات اور رویوں پر اثرات
جو بچے زیادہ تر ڈیجیٹل اسکرینوں میں گم رہتے ہیں، وہ حقیقی دنیا میں کم بات چیت کرتے ہیں۔
اس کے نتیجے میں ان کے اعتماد، سماجی رویے، اور دوسروں سے تعلقات پر منفی اثرات پڑتے ہیں۔
کئی مطالعات میں یہ بھی دیکھا گیا کہ ایسے بچے تنہائی پسند اور چڑچڑے ہوجاتے ہیں۔
🕒 ماہرین کی سفارشات اور والدین کے لیے مشورے
ماہرین صحت اور عالمی ادارہ برائے اطفال (WHO) کے مطابق:
-
دو سال سے کم عمر بچوں کو کسی بھی اسکرین کے سامنے نہ بٹھایا جائے۔
-
دو سے پانچ سال کے بچے روزانہ ایک گھنٹے سے زیادہ اسکرین نہ دیکھیں۔
-
پانچ سے 17 سال کے بچے روزانہ زیادہ سے زیادہ دو گھنٹے موبائل، ٹی وی یا کمپیوٹر پر گزاریں۔
🌳 بچوں کے لیے صحت مند متبادل سرگرمیاں
-
روزانہ کم از کم ایک گھنٹہ پارک یا میدان میں کھیلنے کی ترغیب دیں۔
-
بچوں کو سائیکل چلانے، دوڑنے یا تیراکی جیسے کھیلوں میں شامل کریں۔
-
انہیں کہانی سنانے، تصویری کتابیں پڑھنے یا آرٹ و ڈرائنگ کے مشغلے دیں۔
-
کھلونوں سے کھیلنے اور فیملی ٹائم کو ترجیح دیں تاکہ جذباتی رشتہ مضبوط ہو۔
بچے ہمارا سرمایہ ہیں
ٹیکنالوجی کا استعمال ممنوع نہیں مگر اعتدال ضروری ہے۔والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو محفوظ ڈیجیٹل ماحول فراہم کریں، ان کے اسکرین ٹائم پر نظر رکھیں اور انہیں حقیقی زندگی کے تجربات سے سیکھنے کے مواقع دیں۔صحت مند، متحرک اور خوش باش بچے ہی ہمارے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔



