سوزش کیا ہے؟
سوزش ایک عام مگر نہایت اہم جسمانی رد عمل ہے جو اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب جسم کے کسی حصے یا ٹشو کو نقصان پہنچتا ہے یا زخم لگتا ہے۔ یہ دراصل جسم کا ایک قدرتی دفاعی نظام ہے جو نقصان دہ جراثیم، بیکٹیریا اور وائرس سے لڑنے میں مدد دیتا ہے۔
چوٹ لگنے پر خون کی نالیاں پھیل جاتی ہیں، جس سے متاثرہ حصے میں خون کی روانی بڑھ جاتی ہے، نتیجتاً لالی، سوجن، حرارت اور تکلیف جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔
🔹 سوزش کی اقسام
سوزش بنیادی طور پر دو اقسام کی ہوتی ہے:
-
عارضی (Acute Inflammation) – چند دنوں تک رہتی ہے اور زخم بھرنے میں مدد دیتی ہے۔
-
دائمی (Chronic Inflammation) – اگر یہ چار سے چھ ہفتے یا اس سے زیادہ عرصے تک برقرار رہے تو جسم کے لیے نقصان دہ بن جاتی ہے۔
دائمی سوزش اکثر مدافعتی نظام کی خرابی کی علامت ہوتی ہے، جس میں جسم اپنے ہی خلیوں کے خلاف رد عمل ظاہر کرتا ہے۔
🔹 دائمی سوزش اور خطرناک بیماریاں
دائمی سوزش کئی مستقل بیماریوں کا باعث بن سکتی ہے، جن میں شامل ہیں:
-
آرتھرائٹس (جوڑوں کی سوزش)
-
آنتوں کی سوزش
-
ریٹینائٹس
-
ایتھروسکلروسس (خون کی نالیوں کا سکڑ جانا)
-
دل کی بیماریاں
-
ذیابطیس
-
دماغی امراض
-
کینسر
🔹 دائمی سوزش کی وجوہات
سوزش صرف جراثیم یا چوٹ سے ہی نہیں بلکہ کئی دیگر عوامل سے بھی پیدا ہو سکتی ہے، جیسے:
-
طویل ذہنی تناؤ اور اسٹریس
-
ماحولیاتی آلودگی
-
نیند کی کمی اور غیر فعال طرز زندگی
-
موٹاپا، تمباکو نوشی، ناقص غذا
-
عمر میں اضافہ
یہ تمام عوامل جسم میں مسلسل سوزش پیدا کر کے خلیاتی توازن کو متاثر کرتے ہیں۔
🔹 بایو مارکرز: سوزش کی شناخت کے جدید طریقے
سوزش کی موجودگی اور شدت کا اندازہ لگانے کے لیے بایو مارکرز (Bio Markers) استعمال کیے جاتے ہیں۔
یہ وہ حیاتیاتی سالمے ہیں جو جسم میں بیماری کے دوران ظاہر ہوتے ہیں۔
اہم بایو مارکرز میں شامل ہیں:
-
سی ری ایکٹیو پروٹین (CRP): دل اور سوزش کی بیماریوں کا عام اشاریہ۔
-
فائبروجن (Fibrinogen): خون کے جماؤ اور سوزش کی نشاندہی کرتا ہے۔
-
پروکیلسی ٹونن (Procalcitonin): بیکٹیریل انفیکشن کی علامت۔
-
سائنو سائٹس بیٹا: مدافعتی نظام کی خرابی کی علامت۔
ڈاکٹر ان بایو مارکرز کے ذریعے سوزش کی نوعیت، شدت اور علاج کے مؤثر ہونے کا جائزہ لیتے ہیں۔
🔹 سوزش کا علاج اور بچاؤ
دائمی سوزش کا علاج ہمیشہ وجہ کے مطابق کیا جاتا ہے۔
عام طور پر علاج میں درج ذیل شامل ہوتے ہیں:
-
طرزِ زندگی میں تبدیلیاں (صحت مند غذا، ورزش، نیند)
-
ادویات (اینٹی انفلامیٹری دوائیں)
-
غذا میں اینٹی آکسیڈنٹس جیسے ہلدی، اومیگا-3 فیٹی ایسڈ، اور سبز سبزیاں
-
اسٹریس مینجمنٹ اور ذہنی سکون کی تکنیکیں
یہ تمام اقدامات جسم کے دفاعی نظام کو مضبوط بناتے ہیں اور سوزش کے عمل کو قابو میں رکھتے ہیں۔
سوزش دراصل جسم کا قدرتی دفاعی ہتھیار ہے جو نقصان دہ عوامل سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔
مگر جب یہی سوزش طویل اور غیر معمولی صورت اختیار کر لے تو یہ صحت کے لیے خطرناک بن سکتی ہے۔
لہٰذا، متوازن غذا، باقاعدہ ورزش، نیند، اور ذہنی سکون برقرار رکھنا دائمی سوزش سے بچاؤ کی بہترین حکمتِ عملی ہے۔



