قومی خبریں

سپریم کورٹ کا سخت موقف: کوویڈ کے دوران جان قربان کرنے والے نجی ڈاکٹروں کے حقوق نظرانداز نہیں کیے جا سکتے

سپریم کورٹ کا واضح پیغام: "ڈاکٹروں کا خیال رکھنا عدلیہ اور سماج دونوں کی ذمہ داری ہے"

نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) سپریم کورٹ آف انڈیا نے منگل کے روز ایک اہم سماعت کے دوران کہا کہ اگر عدلیہ اپنے ڈاکٹروں کا خیال نہیں رکھے گی اور ان کے ساتھ کھڑی نہیں ہوگی، تو سماج اسے کبھی معاف نہیں کرے گا۔ عدالت نے یہ ریمارکس ان طبی اہلکاروں کے حوالے سے دیے جنہوں نے کووڈ-19 وبا کے دوران اپنی جان قربان کی مگر انشورنس پالیسیوں سے محروم رہ گئے کیونکہ وہ نجی کلینکوں یا غیر تسلیم شدہ اسپتالوں میں خدمات انجام دے رہے تھے۔

عدلیہ کے ریمارکس: نجی ڈاکٹروں کو محض منافع خور سمجھنا ناانصافی ہے

جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس آر مہادیون پر مشتمل بینچ نے حکومت کو ہدایت دی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ انشورنس کمپنیاں جائز دعووں کی ادائیگی کریں۔ بینچ نے زوردار انداز میں کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ نجی اسپتالوں یا کلینکوں میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر صرف منافع کے لیے کام کرتے ہیں۔

عدالت نے کہا کہ اگر کسی ڈاکٹر نے کووڈ کے دوران خدمات انجام دیں اور اس وائرس کی وجہ سے جاں بحق ہوا تو حکومت کا فرض ہے کہ وہ انشورنس کمپنی کو ادائیگی کے لیے پابند کرے، چاہے وہ سرکاری اسپتال سے وابستہ نہ بھی ہو۔

مرکز سے اسکیموں کی تفصیلات طلب

سپریم کورٹ نے مرکز کو حکم دیا کہ وہ "پردھان منتری غریب کلیان پیکیج” کے علاوہ دیگر انشورنس اسکیموں کی تفصیلات اور متعلقہ اعداد و شمار عدالت کے سامنے پیش کرے تاکہ واضح رہنمائی اصول وضع کیے جا سکیں۔

عدالت نے کہا:

"ہمیں تمام دستیاب ڈیٹا اور اسکیموں کی معلومات فراہم کی جائیں تاکہ ہم یہ طے کر سکیں کہ انشورنس کمپنیوں کو دعوے کس بنیاد پر نمٹانے چاہئیں۔”

پس منظر: کوویڈ کے دوران خدمات انجام دینے والے طبی اہلکاروں کی قربانیاں

یہ مقدمہ پرادیپ اروڑا اور دیگر کی عرضی پر سماعت کے دوران سامنے آیا، جس میں بمبئی ہائی کورٹ کے 9 مارچ 2021 کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ اس فیصلے میں کہا گیا تھا کہ نجی اسپتالوں کے ملازمین انشورنس اسکیم کے اہل نہیں ہوں گے جب تک کہ ریاست یا مرکزی حکومت ان کی خدمات طلب نہ کرے۔

عرضی دہندہ کرن بھاسکر سرگاڈے کے شوہر نے تھانے میں اپنا نجی کلینک چلایا تھا اور 2020 میں کوویڈ-19 کے دوران جاں بحق ہوگئے۔ ان کی بیوہ کی انشورنس درخواست کو اس بنیاد پر مسترد کردیا گیا کہ ان کا کلینک کووڈ اسپتال کے طور پر تسلیم شدہ نہیں تھا۔

اسکیم کا مقصد: کورونا ہیروز کے اہل خانہ کا تحفظ

مارچ 2020 میں شروع کی گئی "پردھان منتری غریب کلیان پیکیج” اسکیم کا مقصد ان صحت کارکنوں کو مالی تحفظ فراہم کرنا تھا جو کووڈ کے دوران اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر خدمات انجام دے رہے تھے۔ اس اسکیم کے تحت 50 لاکھ روپے تک کا انشورنس کور فراہم کیا جاتا ہے تاکہ وبا کے دوران اپنی جان قربان کرنے والے طبی عملے کے اہل خانہ کی مالی مدد کی جا سکے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button