سرورققومی خبریں

سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی دوبارہ تعمیر سے متعلق فیس بک پوسٹ پر مقدمہ ختم کرنے کی درخواست مسترد کردی

سپریم کورٹ کا بابری مسجد پوسٹ پر مقدمہ ختم کرنے سے انکار کیا

نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) سپریم کورٹ نے اُس عرضی پر سماعت سے انکار کردیا جس میں الہ آباد ہائی کورٹ کے اُس فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا، جس نے محمد فیاض منصوری کے خلاف فیس بک پوسٹ کے مقدمے کو ختم کرنے سے انکار کیا تھا۔

جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جویمالیہ بگچی پر مشتمل بنچ نے پیر کے روز مقدمہ سماعت کے لیے لیا اور درخواست گزار کے وکیل طلحہ عبدالرحمن کو عرضی واپس لینے کی اجازت دی۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا،“درخواست گزار کے وکیل نے کچھ دیر بحث کے بعد عرضی واپس لینے کی اجازت طلب کی، جو منظور کی جاتی ہے۔ اس خصوصی اجازت درخواست کو واپس لے لیا گیا سمجھا جائے۔”

بنچ نے مزید کہا کہ، “یہ بات ظاہر ہے کہ دفاع کے تمام دلائل ٹرائل کورٹ میں اپنی قانونی اہمیت کے مطابق سنے جائیں گے۔”

یہ معاملہ 2020 میں اُس وقت شروع ہوا جب محمد فیاض منصوری نے فیس بک پر ہندی زبان میں ایک پوسٹ شیئر کی جس میں لکھا تھا:“بابری مسجد بھی ایک دن دوبارہ تعمیر ہوگی، جیسے ترکی میں صوفیہ مسجد تعمیر ہوئی تھی۔”

اس پوسٹ کے بعد 6 اگست 2020 کو ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی، اور دو دن بعد 8 اگست کو انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ بعد ازاں اُن پر نیشنل سکیورٹی ایکٹ (NSA) بھی نافذ کیا گیا۔

ہائی کورٹ نے حراست کالعدم قرار دی تھی

منصوری کی درخواست میں کہا گیا کہ ان کا بیان کسی قسم کی غیر قانونی یا اشتعال انگیز نوعیت کا نہیں تھا بلکہ یہ صرف ایک امید اور رائے کا اظہار تھا جو آئین کے آرٹیکل 19(1)(a) کے تحت آزادیِ اظہار کے زمرے میں آتا ہے۔

ان کے مطابق، “یہ بیان کسی مذہبی نفرت یا اشتعال کا باعث نہیں تھا بلکہ ایک تاریخی مشاہدہ تھا۔”

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی فیس بک آئی ڈی بعد میں ہیک کر لی گئی اور اصل پوسٹ میں تبدیلیاں بغیر اجازت کی گئیں۔درخواست کے مطابق، “ایک فرضی اکاؤنٹ ‘samreenbanu’ کے نام سے اصل میں ریتیش یادو نامی شخص چلا رہا تھا، مگر کارروائی صرف منصوری کے خلاف ہوئی۔”

ہائی کورٹ نے تیز رفتار سماعت کی ہدایت دی،الہ آباد ہائی کورٹ نے 9 ستمبر 2025 کو ان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کو تیز کرنے کا حکم دیا تھا۔
فیاض منصوری نے بتایا کہ وہ قانون کے گریجویٹ ہیں، مگر مقدمہ زیر التواء ہونے کی وجہ سے ان کی وکالت کی رجسٹریشن رک گئی ہے۔اپیل میں یہ بھی کہا گیا کہ ہائی کورٹ نے محض رسمی انداز میں فیصلہ سنایا اور تعزیرات ہند کی دفعہ 295A کے اطلاق کو بغیر ٹھوس بنیاد کے تسلیم کرلیا۔

آزادیِ اظہار یا جرم؟

یہ مقدمہ بھارت میں سوشل میڈیا پر مذہبی اظہارِ رائے اور آئینی آزادیِ اظہار کے درمیان توازن پر ایک اہم قانونی نظیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔سپریم کورٹ نے اگرچہ مداخلت سے انکار کیا ہے، مگر کیس کے حتمی فیصلے کی ذمہ داری اب ٹرائل کورٹ پر چھوڑ دی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button