ایل آئی سی نے سوشل میڈیا اور امریکی میڈیا کی جھوٹی سرمایہ کاری رپورٹس کی تردید کی
ایل آئی سی کا موقف: "ہماری سرمایہ کاری شفاف اور اصولوں کے مطابق"
نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)لائف انشورنس کارپوریشن آف انڈیا (ایل آئی سی) نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی سرمایہ کاری سے متعلق تمام رپورٹوں کی سختی سے تردید کر دی ہے۔ کمپنی نے واضح طور پر کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر جن دستاویزات کا حوالہ دیا جا رہا ہے وہ مکمل طور پر جعلی ہیں اور نہ تو ایل آئی سی نے انہیں جاری کیا ہے اور نہ ہی اسے ایسی کوئی دستاویزات موصول ہوئی ہیں۔
ایل آئی سی کے مطابق، "ہم واضح کرتے ہیں کہ ذکر کردہ دستاویزات ایل آئی سی کی جانب سے جاری نہیں کی گئیں، اور نہ ہی ہمیں ایسی کوئی دستاویزات موصول ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ، ہمیں کسی گروپ کے کسی ادارے میں سرمایہ کاری کے بارے میں حکومت کی طرف سے کوئی ہدایت نہیں ملی ہے۔”
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وضاحت کے بعد سرمایہ کاروں اور پالیسی ہولڈرز کے درمیان پھیلی غلط فہمیاں اور افواہیں ختم ہو جائیں گی۔ سوشل میڈیا پر گزشتہ چند دنوں سے مختلف پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ ایل آئی سی کو حکومت کی طرف سے مخصوص گروپ میں سرمایہ کاری کے احکامات ملے ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ بھی جھوٹی قرار
ہفتے کے روز ایل آئی سی نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ کو بھی جھوٹا قرار دیا تھا۔ کمپنی نے X (سابق ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا کہ "واشنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں الزام لگایا کہ ایل آئی سی کے سرمایہ کاری کے فیصلے بیرونی دباؤ یا عوامل سے متاثر ہوتے ہیں، جو کہ مکمل طور پر غلط اور بے بنیاد دعویٰ ہے۔”
کمپنی کے مطابق ایل آئی سی کی تمام سرمایہ کاری فیصلے طے شدہ پالیسیوں اور ضابطوں کے مطابق کیے جاتے ہیں۔ ادارہ اپنے صارفین کے مفادات کو اولین ترجیح دیتا ہے اور کسی بیرونی اثر یا دباؤ میں آ کر فیصلہ نہیں کرتا۔
افواہوں سے محتاط رہنے کی اپیل
ایل آئی سی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ سوشل میڈیا پوسٹس یا غیر معتبر میڈیا رپورٹس پر یقین نہ کریں اور صرف ایل آئی سی کے آفیشل ذرائع سے جاری معلومات پر بھروسہ کریں۔



